کراچی سے عمرہ پر جانے والے احرام کہاں سے باندھیں؟

سوال کا متن:

میں عمرہ کرنے جا رہا ہوں کیا مجھے کراچی ایئرپورٹ سے احرام باندھنا ہوگا یا مسجد عائشہ سے بھی جا کر احرام باندھ سکتے ہیں؟

جواب کا متن:

 عمرہ کے ارادہ سے جانے والے کے لیے  احرام کے بغیر میقات سے گزرنا جائز نہیں، گزرنے کی صورت میں یا تو واپس کسی میقات میں آکر احرام باندھنا پڑے گا اور دم لازم نہیں ہوگا، اور اگر میقات کے اندر جاکر احرام باندھے گا تو دم لازم آئے گا، اس لیے کراچی سے عمرہ کا سفر کرنے والے کے لیے مسجد عائشہ سے احرام باندھنا درست نہیں، اور واپس میقات آکر وہاں سے احرام نہ باندھنے کی صورت میں دم ادا کرنا لازم ہوگا، اس لیے  بہتر صورت یہ ہے کہ گھر سے احرام کی چادریں باندھ کر دو رکعت نفل ادا کر لیں اور جب بورڈنگ کارڈ  ملنے کے بعد  جہاز جدہ کے لیے پرواز کرنے پر یقین ہو جائے  تو پھر عمرے کی نیت کر کے تین دفعہ بلند آواز سے تلبیہ پڑھ لیں۔

صحیح مسلم میں ہے:

"عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: وقت رسول الله صلى الله عليه وسلم لأهل المدينة، ذا الحليفة، ولأهل الشام الجحفة، ولأهل نجد، قرن المنازل، ولأهل اليمن، يلملم، قال: «فهن لهن، ولمن أتى عليهن من غير أهلهن، ممن أراد الحج والعمرة، فمن كان دونهن فمن أهله، وكذا فكذلك، حتى أهل مكة يهلون منها."

 (838/2، ط:  دار احیاء التراث)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"المواقيت التي لا يجوز أن يجاوزها الإنسان إلا محرما خمسة: لأهل المدينة ذو الحليفة ولأهل العراق ذات عرق، ولأهل الشام جحفة ولأهل نجد قرن، ولأهل اليمن يلملم، وفائدة التأقيت المنع عن تأخير الإحرام عنها كذا في الهداية."

(221/1، ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144506102392
تاریخ اجراء :08-01-2024