امام کے بھولے سے تکبیر کہےبغیریابلند آواز سےتکبیر کہے بغیر رکوع میں جانے کی صورت میں امام اورمقتدی کی نماز کا حکم

سوال کا متن:

 امام اگر رکوع کرتے وقت تکبیر کہنا بھول جائے یا دل ہی میں تکبیر کہےتو مقتدی اور امام دونوں کے لیے حکم کیا ہے؟

جواب کا متن:

واضح رہے کہ نماز میں صرف تکبیر تحریمہ کہنا فرض ہے، اس کے علاوہ باقی تمام تکبیرات کہنا سنت ہیں، لہذا اگر کوئی رکوع میں جاتے ہوئے تکبیر کہنا بھول جائے،تونماز بغیر سجدہ سہو کے درست ہو جائے گی،صورتِ مسئولہ میں امام کے بھولے سے تکبیر کہےبغیریابلند آواز سےتکبیر کہے بغیر رکوع میں چلے جانے کےبعداگرمقتدی بھی رکوع میں چلاگیا،اورنمازمیں کسی اوروجہ سےفسادنہیں آیاتوامام اور مقتدی دونوں کےلیےحکم یہ ہے کہ امام اورمقتدی دونوں کی نماز اداہوگئی، سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

نیز یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ امام کے بھولے سے تکبیر کہےبغیریابلند آواز سےتکبیر کہے بغیر رکوع میں چلے جانے کےبعداگرمقتدی کوامام کےرکوع میں  جانےکاامام کےرکوع میں ہوتےہوئےکسی طریقہ سےپتہ چل جائے تومقتدی کو چاہیے کہ وہ فوراً رکوع میں چلاجائے،اوراگرمقتدی کوامام کےرکوع میں  جانےکاامام کے رکوع سےاٹھنے کےبعد پتہ چلے(مثلاً قومہ کی حالت میں امام کےسمع اللہ لمن حمدہ زورسےکہنے کی وجہ سے امام کے رکوع کرنےکاپتہ چلے)تب بھی مقتدی پرواجب ہےکہ وہ رکوع کرکےامام کے ساتھ قومہ میں شریک ہوجائے،البتہ  اگر کوئی مقتدی قومہ کی حالت میں امام کےسمع اللہ لمن حمدہ زورسےکہنے کی وجہ سے امام کےساتھ قیام کےبعدرکوع کیے بغیر امام کےساتھ قومہ میں شریک ہوجائےتو امام کے سلام پھیرنے کےبعد سیدھاکھڑاہوئےبغیررکوع کرلےاورپھرقومہ کیےبغیرقعدےکی حالت میں بیٹھ کر تشہد دوبارہ پڑھ کر سلام پھیرلےتواس سےاس کی نماز صحیح ہو جائے گی، مگر واجب چھوڑنے کی وجہ  سے گناہ گار ہوگا، لیکن سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا؛کیوں کہ مقتدی کےواجب چھوڑنےسےسجدہِ سہویا نمازکولوٹانا واجب نہیں ہوتاہے،اور اگر   امام کےسلام پھیرنے کے بعدبھی رکو ع نہ کرےتو مقتدی کی نماز ادانہیں ہوئی،دوبارہ شروع سے نماز پڑھنامقتدی پرلازم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وسننها.... (وتكبير الركوع و) كذا (الرفع منه) بحيث يستوي قائما (والتسبيح فيه ثلاثا)."

(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، 476/1، ط: سعيد)

وفيها ايضا:

"(وسننها) ترك السنة لا يوجب فسادا ولا سهوا بل إساءة لو عامدا غير مستخف." 

(كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، 474/1، ط: سعيد)

ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144508101830
تاریخ اجراء :02-03-2024