1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. ممنوعات و مباحات
  3. تعویذات / عملیات
  4. تعویذ ، دم درود کی حقیقت و احکام

خون سے تعویذ لکھنا

سوال

خون سے تعویذ لکھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

 خون سے تعویذ لکھنا خصوصاً جب کہ اُن میں اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور انبیاء کرام علیہم السلام کے اسماء ہوں یا آیات قرانیہ ہوں  ناجائز وحرام ہے؛ کیوں کہ خون نجس ہے اور اِس سے تعویذ لکھنے میں اُن اسماء کی توہین وبے حرمتی لازم آتی ہے۔ البتہ  اگر  جان جانے کا خطرہ ہو اور دیگر علاج معالجہ سے شفا نہ ملے، اور صحت یابی کی اس کے علاوہ کوئی اور ممکنہ صورت نہ رہے تو فقہاء کرام نے اس کی گنجائش دی ہے، تاہم اس رخصت پر عمل کرنے کے بجائے وہ آدمی  عزیمت پر عمل کرکے مرجائے تو یہ افضل ہے۔ نیز  خون سے تعویذ لکھے بغیر کوئی علاج کی صورت نہ ہونا بغیر دلیل کے قابل قبول نہیں ہوگا۔ (مستفاد فتاوی محمودیہ ۲۰/۶۶)

حاشية ابن عابدين - (1 / 210):
’’ونص ما في الحاوي القدسي إذا سال الدم من أنف إنسان ولاينقطع حتى يخشى عليه الموت وقد علم أنه لو كتب فاتحة الكتاب أو الإخلاص بذلك الدم على جبهته ينقطع فلايرخص له ما فيه، وقيل: يرخص كما رخص في شرب الخمر للعطشان وأكل الميتة في المخمصة وهو الفتوى ا هـ‘‘. 
فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144004200514
تاریخ اجراء :08-01-2019

فتوی پرنٹ