1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. ممنوعات و مباحات
  3. تعویذات / عملیات
  4. تعویذ ، دم درود کی حقیقت و احکام

تعویذ اور عملیات سے علاج کرانا اور اس پر اجرت مقرر کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ جادو اور جنات کے اثرات ختم کرنے کے لیے کسی دیوبندی عامل کے پاس جانا اور ان سے تعویذ لینا جائز ہے یا نہیں؟  کن شرائط سے تعویذ کا لینا جائز ہے؟  کچھ عامل جو کہ دیوبندی بھی ہیں مگر بدلے میں پیسے لیتے ہیں اور وہ مقرر فیس کی طرح لیتے ہیں۔ کچھ تو شرطیہ کہتے  ہیں کہ اتنا  لیں  اور کچھ عامل لیتے تو ہیں مگر کوئی مقرر رقم نہیں، جتنا دیں لے لیتے ہیں۔ براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں قرآن و حدیث روشنی میں۔ کیوں کہ ایک عالمِ دین جو کہ دیوبندی ہے کراچی کے کسی نامور مدرسے کے مدرس ہیں وہ فرماتے ہیں کہ عامل کے پاس جانا بالکل بھی جائز نہیں؟

جواب

دیگر  علاج ومعالجہ کی طرح عملیات اور تعویذات بھی علاج کی ایک قسم ہے،  تعویذات اور عملیات کے ذریعے علاج کرنا اور اس پر معقول معاوضہ لینا چند شرائط کے ساتھ جائز ہے:

(۱)  ان کا معنی  ومفہوم معلوم ہو،  (۲) ان میں  کوئی شرکیہ کلمہ نہ ہو، (۳)  ان کے مؤثر بالذات ہونے   کا اعتقاد نہ ہو ،  (۴)  عملیات کرنے ولا علاج سے واقف اور  ماہر ہو، فریب نہ کرتا ہو۔ (۴) کسی بھی غیر شرعی امر کا ارتکاب نہ کرنا پڑے، مثلاً: اجنبیہ عورتوں سے اختلاط و بے پردگی وغیرہ۔

         لہذا  ایسے تعویذ اور عملیات جو آیاتِ قرآنیہ ، ادعیہ ماثورہ یا کلمات صحیحہ پر مشتمل ہوں  ان کو لکھنا،  استعمال کرنا اور ان سے علاج کرنا شرعاً درست ہے،  اور اس پر معقول معاوضہ  لینا بھی جائز ہے، اور جن تعویذوں میں کلماتِ  شرکیہ یا  کلماتِ مجہولہ یا نامعلوم قسم کے منتر  لکھے جائیں یا ا نہیں مؤثرِ حقیقی  سمجھا جائے تو ان کا استعمال  اور اس پر اجرت لینا  شرعاً جائز نہیں ہے، خواہ اپنے آپ کو دیوبندی کہلانے والا کوئی شخص ایسا علاج کرے۔  آج کل اس سلسلے میں شرعی احکام اور شرائط کی رعایت نہیں رکھی جاتی نیز دھوکا دہی بھی عام ہے، اس لیے مکمل تحقیق اور تصدیق کے بغیر کسی کے پاس نہیں جانا چاہیے۔ 

اور جو علماءِ کرام اس سے منع کرتے ہیں تو ان کے پیشِ نظر  بھی وہ صورتیں ہوتی ہیں جن میں شرائط نہ پائی جاتی ہوں، یا جن صورتوں میں عوام کے اعتقاد کے فساد کا اندیشہ ہو، لہٰذا سدًّا للذرائع عاملین کی طرف رجوع سے منع کرتے ہیں؛ کیوں کہ عوام دنیاوی اغراض کے لیے بسا اوقات ناجائز ذرائع استعمال کرتے ہوئے غیر مسلم عاملین تک سے رجوع کرتے ہیں۔

یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد اور دینِ اسلام کے مزاج کے پیشِ نظر  علماءِ دین کے لیےعملیات کو مشغلہ بنانا اور اس میں انہماک (گو شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے ہو) کچھ پسندیدہ نہیں ہے۔  

صحيح مسلم میں ہے:

’’ عن عوف بن مالك الأشجعي، قال: كنا نرقي في الجاهلية، فقلنا: يا رسول الله كيف ترى في ذلك؟ فقال: «اعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك»‘‘.

(4/ 1727، رقم الحدیث: 2200، باب لا باس بالرقی مالم یکن فیہ شرک، ط: دار احیاء التراث العربی)

 

سنن أبي داؤد  میں ہے:

’’ عن أبي سعید الخدري أن رهطاً من أصحاب النبي صلی الله علیه وسلم انطلقوا في سفرة سافروها، فنزلوا بحي من أحیاء العرب، فقال بعضهم: إن سیدنا لدغ، فهل عند أحد منکم شيء ینفع صاحبنا؟ فقال رجل من القوم: نعم، والله إني لأرقي، ولکن استضفناکم، فأبیتم أن تضیفونا، ما أنا براق حتی تجعلولي جعلاً، فجعلوا له قطیعاً من الشاء، فأتاه، فقرأ علیه أم الکتاب ویتفل حتی برأ کأنما نشط من عقال، قال: فأوفاهم جعلهم الذي صالحوهم علیه، فقالوا: اقتسموا، فقال الذي رقی: لاتفعلوا حتی نأتي رسول الله صلی الله علیه وسلم فنستأمره، فغدوا علی رسول الله صلی الله علیه وسلم فذکروا له، فقال رسول الله صلی الله علیه وسلم: من أین علمتم أنها رقیة؟ أحسنتم، اقتسموا واضربوا لي معکم بسهم‘‘. (سنن أبي داؤد، کتاب الطب، باب کیف الرقی؟ (ص:۵۴۴) ط: میر محمد کراچی)

وفي هامشه:

’’ قال العیني: کأنه أراد المبالغة في تصویبه إیاهم. فیه جواز الرقیة، وبه قالت الأئمة الأربعة، وفیه جواز أخذ الأجرة. قال محمد في الموطأ: لابأس بالرقی بما کان في القرآن وبما کان من ذکر الله تعالی، فأما ماکان لایعرف من الکلام فلاینبغي أن یرقی به، انتهی.‘‘

مرقاۃ المفاتیح  میں ہے:

’’وأما ما كان من الآيات القرآنية، والأسماء والصفات الربانية، والدعوات المأثورة النبوية، فلا بأس، بل يستحب سواء كان تعويذاً أو رقيةً أو نشرةً، وأما على لغة العبرانية ونحوها، فيمتنع؛ لاحتمال الشرك فيها‘‘.

(7 / 2880، رقم الحدیث:4553، الفصل الثانی، کتاب الطب والرقی، ط: دارالفکر بیروت)

وفیہ ایضاً:

’’(أو تعلقت تميمةً) : أي: أخذتها علاقةً، والمراد من التميمة ما كان من تمائم الجاهلية ورقاها، فإن القسم الذي اختص بأسماء الله تعالى وكلماته غير داخل في جملته، بل هو مستحب مرجو البركة عرف ذلك من أصل السنة، وقيل: يمنع إذا كان هناك نوع قدح في التوكل، ويؤيده صنيع ابن مسعود - رضي الله عنه - على ما تقدم، والله أعلم‘‘.

(7 / 2881، رقم الحدیث:4553، الفصل الثانی، کتاب الطب والرقی، ط: دارالفکر بیروت)

فتاوی شامی میں ہے:

’’[فرع] في المجتبى: التميمة المكروهة ما كان بغير العربية.

(قوله: التميمة المكروهة) أقول: الذي رأيته في المجتبى التميمة المكروهة ما كان بغير القرآن، وقيل: هي الخرزة التي تعلقها الجاهلية اهـ فلتراجع نسخة أخرى. وفي المغرب: وبعضهم يتوهم أن المعاذات هي التمائم وليس كذلك؛ إنما التميمة الخرزة، ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالى، ويقال: رقاه الراقي رقياً ورقيةً: إذا عوذه ونفث في عوذته، قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو، ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به اهـ قال الزيلعي: ثم الرتيمة قد تشتبه بالتميمة على بعض الناس: وهي خيط كان يربط في العنق أو في اليد في الجاهلية؛ لدفع المضرة عن أنفسهم على زعمهم، وهو منهي عنه، وذكر في حدود الإيمان: أنه كفر اهـ. وفي الشلبي عن ابن الأثير: التمائم جمع تميمة وهي خرزات كانت العرب تعلقها على أولادهم يتقون بها العين في زعمهم، فأبطلها الإسلام، والحديث الآخر: «من علق تميمةً فلا أتم الله له»؛ لأنهم يعتقدون أنه تمام الدواء والشفاء، بل جعلوها شركاء؛ لأنهم أرادوا بها دفع المقادير المكتوبة عليهم، وطلبوا دفع الأذى من غير الله تعالى الذي هو دافعه اهـ ط وفي المجتبى: اختلف في الاستشفاء بالقرآن بأن يقرأ على المريض أو الملدوغ الفاتحة، أو يكتب في ورق ويعلق عليه أو في طست ويغسل ويسقى. وعن «النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان يعوذ نفسه»، قال - رضي الله عنه -: وعلى الجواز عمل الناس اليوم، وبه وردت الآثار‘‘. (6 / 363، کتاب الحظر والإباحة ط: سعید)

زاد المعاد  فی ھدی خیرالعباد میں ہے :

’’ذكر مالك في " موطئه ": عن زيد بن أسلم: ( «أن رجلاً في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم أصابه جرح، فاحتقن الجرح الدم، وأن الرجل دعا رجلين من بني أنمار، فنظرا إليه، فزعما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لهما: " أيكما أطب"؟ فقال: أو في الطب خير يا رسول الله؟ فقال: " أنزل الدواء الذي أنزل الداء» )

ففي هذا الحديث أنه ينبغي الاستعانة في كل علم وصناعة بأحذق من فيها فالأحذق، فإنه إلى الإصابة أقرب‘‘.(ص:781، فصل في هديه صلى الله عليه وسلم في الإرشاد إلى معالجة أحذق الطبيبين، دار الفکر بیروت) فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :143908200777
تاریخ اجراء :10-05-2018

فتوی پرنٹ