1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. ممنوعات و مباحات
  3. تعویذات / عملیات
  4. تعویذ ، دم درود کی حقیقت و احکام

استخارہ

سوال

میں پہلے سنی نہیں تھا، اب سنی ہوا ہوں  جس کا علم  میرے گھر والوں کو نہیں ہے، وہ اسماعیلی  ہیں یعنی آغاخانی ہیں۔ میں ایک سنی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔میں دیوبندی ہوں ؛ اس لیے آپ لوگوں سے اس شادی کے بارے میں  استخارہ کرانا چاہتا ہوں!

جواب

اللہ تعالی آپ کی قربانی  قبول فرمائے،  آپ کو استقامت دے اور آپ کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔ ہمارے ہاں شرعی مسائل کا حل  بتایا جاتا ہے، اور شرعی مسئلہ یہ ہے کہ صاحبِ معاملہ خود اپنے مسئلے کے لیے استخارہ کرے، استخارہ کے معنی خیر طلب کرنے کے آتے ہیں، یعنی اپنے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی کی دعا کرے۔  استخارے کا طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سکھایاہے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی سورت، پھر اس کا طریقہ یہ بیان فرمایاکہ:

دو رکعت نفل نماز پڑھی جائے، اس کے بعد پوری توجہ کے ساتھ یہ دعا پڑھے:
اللّٰہُمَّ إِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ، اَللّٰہُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ أَمْرِیْ، أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِیْ وَاٰجِلِہٖ فَاقْدُرْہُ لِیْ وَیَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ، وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہٰذَا الأَمْرَ شَرٌّ لِیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ أَمْرِیْ أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِیْ وَاٰجِلِہٖ فَاصْرِفُہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ رَضِّنِیْ بِہٖ۔ قَالَ وَیُسَمِّیْ  حَاجَتَہٗ۔ (صحیح البخاري رقم: ۱۱۶۶، سنن الترمذي ۴۰۸، سنن أبي داؤد ۱۵۳۸)
ترجمہ: اے اللہ! میں آپ کے علم کے ذریعہ خیر کا طالب ہو، اور آپ کی قدرت سے طاقت حاصل کرنا چاہتا ہوں، اور آپ کے فضلِ عظیم کا سائل ہوں، بے شک آپ قادر ہیں اور میں قدرت نہیں رکھتا، اور آپ کو علم ہے کہ میں لاعلم ہوں، اور آپ چھپی ہوئی باتوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اے اللہ! اگر آپ علم کے مطابق یہ کام (یہاں اس کام کا تصور کرے) میرے حق میں دینی، دنیوی اور اخروی اعتبار سے (یا فی الحال اور انجام کار کے اعتبار سے) بہتر ہے، تو اسے میرے لیے مقدر فرمائیے، اور اسے میرے حق میں آسانی کرکے اس میں مجھے برکت سے نوازے، اور اگر آپ کو علم ہے کہ یہ کام (یہاں کام کا تصور کرے) میرے حق میں دینی، دنیوی اور اخروی اعتبار سے (یا فی الحال اور انجام کے اعتبار سے) برا ہے تو اس کو مجھ سے اور مجھے اس سے ہٹادے اور جس جانب خیر ہے وہی میرے لیے مقدر فرمادے، پھر مجھے اس عمل سے راضی کردے۔
دعا پڑھتے ہوئے جب  ہٰذا الأمرپر پہنچے تو دونوں جگہ اس کام کا دل میں دھیان جمائے جس کے لیے استخارہ کررہا ہے (یعنی آپ اپنے رشتے کی طرف) یا دعا پوری پڑھنے کے بعد اس کام کو ذکر کرے۔ دعا کے شروع اور اخیر میں اللہ کی حمد وثناء اور درود شریف بھی ملالے، اور اگر عربی میں دعا نہ پڑھی جاسکے تو اردو یا اپنی مادری زبان میں اسی مفہوم کی دعا مانگے۔
'ومنہا رکعتی الاستخارۃ عن جابر بن عبد اللّٰہ قال: کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعلمنا الاستخارۃ في الأمور کلہا … الخ۔ رواہ الجماعۃ إلا مسلمًا۔ شرح المنیۃ … ویسمی حاجتہ، قال ط: أي بدل قولہ: ہٰذا الأمر قلت: أو یقول بعدہ، وہو کذا وکذا … وفي الحلیۃ: ویستحب افتتاح ہٰذا الدعاء وختمہ بالحمدلۃ والصلاۃ'۔ (الدر المختار مع الشامي / باب الوتر والنوافل ۲؍۴۷۰ زکریا)فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :143909201651
تاریخ اجراء :02-08-2018

فتوی پرنٹ