1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. ممنوعات و مباحات
  3. تعویذات / عملیات
  4. تعویذ ، دم درود کی حقیقت و احکام

تعویذات اور عملیات سیکھنے کا شرعی حکم

سوال

اسلام میں تعویذ کی شرعی حثیت کیا ہے؟ کیا تعویذ پہننا جائز ہے ؟ اور عامل کون ہوتا ہے؟ عاملوں کے پاس جا کر ان سے علم سیکھنا کیسا ہے؟

جواب

قرآن کریم اسمائے حسنی ودیگر ادعیہ وغیرہ پر مشتمل تعویذ پہننا جائز ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص نیند کے دوران گھبرا جائے تو یہ کلمات پڑھے : اعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبہ وسوء عقابہ ومن شر عبادہ ومن شر الشیاطین وان یحضرون. حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے سمجھدار بچوں کو یہ کلمات سکھاتے اور ناسمجھ بچوں کے لیے لکھ کر ان کے گلے میں لٹکادیتے تھے. (مصنف ابن ابی شیبۃ : 24013) علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی مصیبت زدہ اور مریض کے لیے قرآن کریم وذکر اللہ کو لکھنا اور اسے پلانا جائز ہے، آگے حضرت ابن عباس رضی اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ عورت کے لیے ولادت مشکل ہوجائے تو یہ کلمات لکھے : بسم اللہ لا الہ الا اللہ العلی العظیم لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم ... الخ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے علی کا قول ذکر کیا ہے کہ ان کلمات کو کسی کاغذ پر لکھ کر عورت کے بازو میں لٹکایا بھی جاسکتا ہے. ( مجموع فتاوی شیخ الاسلام ابن تیمیۃ 19/ 64،65) علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے بھی زاد المعاد میں اس پر مفصل بحث کی یے، مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ اصل مقصود پڑھنا ہے لیکن کم فہم بچوں اور کم علم لوگوں کے لیے تبرکا لکھ کر لٹکانا بھی جائز یے البتہ یہ ضروری ہے کہ تعویذ لٹکانے والا اسے محض ایک سبب شمار کرتے ہوئے اصل محافظ ومؤثر اللہ تعالی کو ہی سمجھے. آج کل عام طور پر تعویذات وغیرہ کا عمل کرنے والے کو عامل کہا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے دیگر امور کی طرح اس میدان میں بھی ہر قسم کے لوگ داخل ہوگئے ہیں جس کی بنا پر کھرے کھوٹے کا فرق دشوار ہوگیا ہے، البتہ ضرورت کی بنا پر کسی صحیح العقیدہ وصاحبِ علم عامل سے یہ علم سیکھنا شرعا جائز ہے. واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :143712200010
تاریخ اجراء :18-09-2016

فتوی پرنٹ