1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. ممنوعات و مباحات
  3. تعویذات / عملیات
  4. تعویذ ، دم درود کی حقیقت و احکام

سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کرنا

سوال

سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کرنا، یا پانی میں دم کر کے پینے کے بارے میں احناف کے نزدیک کیا حکم ہے؟

جواب

سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کرنا یا پانی پر دم کرکے پینا سب جائز ہے، اور ایسا کرنا صحابہ کے عمل اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویب سے ثابت ہے، جیسا کہ جامع الترمذی میں ہے:

"٢٠٦٣ - حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ، فَسَأَلْنَاهُمُ القِرَى فَلَمْ يَقْرُونَا، فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ فَأَتَوْنَا فَقَالُوا: هَلْ فِيكُمْ مَنْ يَرْقِي مِنَ العَقْرَبِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ أَنَا، وَلَكِنْ لَا أَرْقِيهِ حَتَّى تُعْطُونَا غَنَمًا، قَالُوا: فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلَاثِينَ شَاةً، فَقَبِلْنَا فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ: الحَمْدُ لِلَّهِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَبَرَأَ وَقَبَضْنَا الغَنَمَ، قَالَ: فَعَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا شَيْءٌ فَقُلْنَا: لَا تَعْجَلُوا حَتَّى تَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَيْهِ ذَكَرْتُ لَهُ الَّذِي صَنَعْتُ، قَالَ: «وَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ اقْبِضُوا الغَنَمَ وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ». هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَأَبُو نَضْرَةَ اسْمُهُ المُنْذِرُ بْنُ مَالِكِ بْنِ قُطْعَةَ وَرَخَّصَ الشَّافِعِيُّ لِلْمُعَلِّمِ أَنْ يَأْخُذَ عَلَى تَعْلِيمِ القُرْآنِ أَجْرًا، وَيَرَى لَهُ أَنْ يَشْتَرِطَ عَلَى ذَلِكَ، وَاحْتَجَّ بِهَذَا الحَدِيثِ وَرَوَى شُعْبَةُ، وَأَبُو عَوَانَةَ، وَهِشَام، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

٢٠٦٤ - حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الوَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا المُتَوَكِّلِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِحَيٍّ مِنَ العَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ وَلَمْ يُضَيِّفُوهُمْ، فَاشْتَكَى سَيِّدُهُمْ فَأَتَوْنَا فَقَالُوا: هَلْ عِنْدَكُمْ دَوَاءٌ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، وَلَكِنْ لَمْ تَقْرُونَا وَلَمْ تُضَيِّفُونَا، فَلَا نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا، فَجَعَلُوا عَلَى ذَلِكَ قَطِيعًا مِنَ الغَنَمِ، قَالَ: فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَّا يَقْرَأُ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ فَبَرَأَ، فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: «وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟» ـ وَلَمْ يَذْكُرْ نَهْيًا مِنْهُ ـ وَقَالَ: «كُلُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ». هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الحَدِيثَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ، عَنْ أَبِي المُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ هُوَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ". (بَابُ مَا جَاءَ فِي أَخْذِ الأَجْرِ عَلَى التَّعْوِيذِ، ٤/ ٣٩٨)

خلاصہ ان دونوں روایتوں کا یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک مختصر لشکر کہیں روانہ فرمایا، اس کا گزر قبیلے سے ہوا، انہوں نے صحابہ کرام کی جماعت کی ضیافت نہیں کی (جو کہ عرب کے دستور کے مطابق معروف تھی)، جب صحابہ کرام کا لشکر وہاں سے روانہ ہوا تو اس قبیلے کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا، دوا دارو اور جھاڑ پھونک سے کچھ افاقہ نہ ہوا تو قبیلے کے لوگ دوڑے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس آئے کہ آپ میں اگر کوئی جھاڑ پھونک جانتاہے تو ہمارے سردار کو دم کردے، صحابہ کرام نے کہا کہ  اس شرط پر دم کریں گے کہ آپ ہمیں بکریوں کا ریوڑ دیں گے، قبیلہ والوں نے شرط منظور کرلی، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ جو اس لشکر میں موجود تھے انہوں نے سات مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو ان کا سردار ٹھیک ہوگیا، انہوں نے 30 بکریاں ان کے حوالے کردیں، بکریاں لینے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل میں تردد ہوا کہ  یہ حلال بھی ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہم انہیں اس وقت تک استعمال نہیں کریں گے جب تک رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر حکم نہ پوچھ لیں، چناں چہ مدینہ منورہ واپس پہنچ کر آپ ﷺ کی خدمت میں تفصیل عرض کی، رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف ان کی تصویب فرمائی، بلکہ یہ بھی فرمایا کہ میرے لیے بھی اس ریوڑ میں حصہ کرو۔ یعنی ان کے دل میں حلت کے حوالے سے جو تردد تھا اسے یوں ختم فرمادیا۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144010200011
تاریخ اجراء :11-06-2019

فتوی پرنٹ