1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. ممنوعات و مباحات
  3. علاج / معالجہ
  4. اعضاء کی پیوندکاری

اعضاء کا عطیہ کرنا

سوال

میراسوال یہ ہے کہ کیااعضاء کاعطیہ کرنامرنے کے بعد جائزہے؟یہاں سعودیہ میں یہ فتوی رائج ہے کہ یہ کام جائزہے اگرمرنے والے نے وصیت کی ہویااس کے لواحقین کی اجازت ہو،براہ کرم مجھے مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

جواب

انسان کو اپنے جسم کواستعمال کرنے کاحق ہے،یعنی اس سے انتفاع حاصل کرسکتاہے،لیکن انسانی اعضاء نہ ہی مال ہیں ،اورنہ انسان اپنے اعضاء کامالک ہے،اس لیے نہ ہی انسان اپنے اعضاء میں سے کسی عضوکوہبہ کرسکتاہے اورنہ عطیہ کرنے کی وصیت کرسکتاہے۔لہذا اپنے اعضاء کازندگی میں یابعد از مرگ کسی کوعطیہ کرناناجائزوحرام ہے،لواحقین کی اجازت کاکوئی اعتبارنہیں۔نیز انسان قابل احترام وتکریم ہے،اس کے اعضاء میں سے کسی عضو کو اس کے بدن سے الگ کرکے دوسرے انسان کودینے میں  انسانی تکریم کی خلاف ورزی لازم آتی ہے،اسی بناپرفقہاء کرام نے علاج معالجہ اورشدیدمجبوری کے موقع پربھی انسانی اعضاء کے استعمال کو ممنوع قراردیاہے۔مزیدتفصیلات کے لیے حضرت مولانامفتی محمدشفیع رحمہ اللہ کی کتاب''انسانی اعضاء کی پیوندکاری ''کامطالعہ فرمائیں۔فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :143710200014
تاریخ اجراء :19-07-2016

فتوی پرنٹ