1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. ایمان وعقائد
  3. بدعات اور رسوم
  4. رسومات

حج پر جاتے ہوئے رشتہ داروں وغیرہ کو جمع کر کے یا حج پر جانے والوں کو جمع کر کے کھانا کھلانے، بیانات و دعا کروانے کا حکم

سوال

حاجی لوگ جب حج کرنے جاتے ہیں، لوگوں کوجمع کر کے دعا کرانا، کھانا کھلانا، بیانات وغیرہ کرانا یہ تمام کام کیسے ہیں؟ ان کا مدلل جواب مرحمت فرمائیں!

جواب

حج پر جانے والے حاجیوں کا اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کوجمع کر کے کھانا کھلانا، بیان اور دعا کروانا جائز ہے، بشرطیکہ اس کو دین کا حصہ سمجھ کر یا لازم سمجھ کر شرمندگی سے بچنے کے لیے نہ کیا جارہا ہو۔ اسی طرح کسی ادارے یا شخص کی طرف سے حج پر جانے والے حاجیوں کو جمع کر کے بیان اور دعا کرانے اور کھانا کھلانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ اگر حجاجِ کرام کی تربیتی و ترغیبی اور اصلاحی نشست کی غرض سے ان کو جمع کیا جائے تو یہ بہت ہی مستحسن بات ہے، لیکن اس طرح کی دعوتوں کو باقاعدہ دین کا کوئی مستقل حصہ نہ سمجھا جائے، اگر کسی علاقہ میں اس طرح کی دعوتیں کرنے کو ضروری سمجھا جاتا ہو اور نہ کرنے پر عار دلائی جاتی ہو  یا اسے حج کا مستقل حصہ بنادیا ہوتو پھر ایسی دعوتوں سے پرہیز کرنا لازم ہوگا۔ فقط واللہ اعلم 


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144010200606
تاریخ اجراء :06-07-2019

فتوی پرنٹ