1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. روزہ
  4. روزہ - حقیقت و مصالح

عورت کا مانع حیض گولیاں کھا کر روزے رکھنا

سوال

عورت اگر رمضان المبارک میں روزے مسلسل رکھنے کے لیے کوئی دوا یا گولیاں استعمال کرلے، جس کے ذریعے سے وہ اپنی ماہواری کو روکنے کی کوشش کرے، تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟  اس سے اگر خون آنا بند ہوجائے تو اس  کے روزے صحیح ہے یا نہیں؟ اوریہ عمل یعنی دوا وغیرہ کے ذریعے سے خون کا روکنا کیسا ہے؟

جواب

حیض کا خون بند کرنے کے لیے دوا وغیرہ استعمال کرنا ناجائز تو  نہیں ہے، البتہ بسااوقات طبی لحاظ سے یہ عورت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور اس سے ماہواری کے ایام میں بے قاعدگی بھی ہوجاتی ہے، جس سے بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان ایام میں معذور رکھا ہے، ان دنوں میں نماز روزہ ادا نہ کرنے پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے، نماز معاف ہے، اور روزوں کی قضا دیگر ایام میں کرنی ہوتی ہے،  اور اس طرح کرنے سے عورت کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی ؛ لہٰذا ایسی مشقت اٹھانے اور تکلف کی ضرورت نہیں ہے، عورت کو چاہیے کہ رمضان میں مخصوص ایام کے دوران روزے چھوڑدے اور پاکی کے دنوں میں ان روزوں کی قضا کرلے۔ 

البتہ اگر کسی عورت نے  حیض آنے سے پہلے دوا  کھائی جس سے حیض کا خون نہیں آیا تو جب تک خون جاری نہ ہو وہ عورت پاک ہی شمار ہوگی، ان ایام میں نماز پڑھے گی اور روزہ رکھے گی، اور اس کا نماز اور روزہ ادا ہوجائے گا۔فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008201403
تاریخ اجراء :23-05-2019

فتوی پرنٹ