1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. روزہ
  4. روزہ - حقیقت و مصالح

تیس شعبان کو روزہ رکھنے کا حکم

سوال

تیس شعبان کو روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

احادیثِ مبارکہ میں رمضان المبارک سے ایک یا دو دن پہلے روزے رکھنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے، لہذا تیس شعبان کا روزہ نہ رکھنا چاہیے، ہاں! اگر کوئی شخص ایسا ہے جو ہر پیر  اور جمعرات کو روزہ رکھتا ہو اور تیس شعبان پیر یا جمعرات میں سے کسی ایک دن آ گئی تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص پورے شعبان روزے رکھتا ہو تو وہ بھی تیس شعبان کا روزہ رکھ سکتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 381):
"(قوله: ولايصام يوم الشك) هو استواء طرفي الإدراك من النفي والإثبات، بحر (قوله: هو يوم الثلاثين من شعبان) الأولى قول نور الإيضاح: هو ما يلي التاسع والعشرين من شعبان أي؛ لأنه لايعلم كونه يوم الثلاثين؛ لاحتمال كونه أول شهر رمضان، ويمكن أن يكون المراد أنه يوم الثلاثين من ابتداء شعبان فمن ابتدائية لا تبعيضية، تأمل". 
فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008200757
تاریخ اجراء :06-05-2019

فتوی پرنٹ