1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. روزہ
  4. روزہ کی قضاء

حاملہ یا دودھ پلانے والی خاتون کے لیے رمضان کے روزوں کا حکم

سوال

 جو عورت حمل سے ہو کیا وہ رمضان کے روزے چھوڑ سکتی ہے؟

جو عورت بچے کو دودھ پلا رہی ہو کیا وہ رمضان کے روزے چھوڑ سکتی ہے؟

جواب

1۔اگر حاملہ خاتون کو اپنی یا اپنے بچہ کی مضرت کا گمان غالب ہو تو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوگی، بچہ کی پیدائش کے بعد قضا کرنا ہوگا، تاہم اگر مضرت کا گمان غالب نہ ہو تو روزہ رکھنا لازم ہوگا۔

2۔ دودھ پلانے والی خاتون کو اپنی مضرت کا گمان غالب ہو ، اور ماں کے دودھ کے علاوہ  بچہ کی غذا کا کوئی بند وبست نہ ہو تو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوگی،  بصورتِ دیگر روزہ رکھنا ضروری ہوگا۔

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"وقال في الاصل: إذا خافت الحامل أو المرضع على أنفسهما أو على ولدهما جاز الفطر و عليهما القضاء". ( ٢/ ٣٨٤، إدارة القرآن و العلوم الإسلامية) فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008200566
تاریخ اجراء :29-04-2019

فتوی پرنٹ