1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. روزہ
  4. نفلی روزے

پندرہ شعبان کے بعد نفل روزے رکھنے کا حکم

سوال

پندرہ شعبان کے بعد نفل روزہ رکھنا منع ہے ۔ کیا جو لوگ پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے کے عادی ہیں ان کو بھی پندرہ شعبان کے بعد نفل روزہ رکھنا منع ہے؟

جواب

پندرہ شعبان کے بعد روزہ رکھنا اس شخص کے لیے مکروہ ہے جس نے شعبان کے نصفِ اول میں کوئی روزہ نہیں رکھا،  یہاں تک کہ جب نصفِ آخر شروع ہوا تو روزہ رکھنا شروع کردیا،  جیسا کہ فتح القدیر(2 / 316)میں ہے:

"الثالث: ما أخرج الترمذي عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا بقى النصف من شعبان فلاتصوموا". وقال: حسن صحيح، لايعرف إلا من هذا الوجه على هذا اللفظ، ومعناه عند بعض أهل العلم: أن يفطر الرجل حتى إذا انتصف شعبان أخذ في الصوم".

لہذا جو شخص ہر پیر وجمعرات کو  یا ہر ماہ کے آخری تین دن روزہ رکھنے کا عادی ہو، یا نصفِ اول میں بھی وہ روزہ رکھتا ہو ، اس کے لیے نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنا بلا کراہت جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008200150
تاریخ اجراء :13-04-2019

فتوی پرنٹ