1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. روزہ
  4. نفلی روزے

ایامِ بیض کے روزے ترک کرنا

سوال

 ایک شخص ہے وہ  ہر ماہ ایامِ بیض کے روزے (تین دن کے روزے) رکھتاہے، اور وہ کئی سالوں سے ایسا کرتا آرہا ہے، اب اگر وہ ان دنوں میں کسی دن نہ رکھ پائے کسی بیماری کی وجہ سے یا ایسے ہی تو کیا اس پر قضا ہوگی یا گناہ ہوگا؟

اور اگر اس نے یہ کہا کہ میں ہر ماہ تین دن کے روزے رکھوں گا چاہے کچھ ہوجاۓ اور رکھتا آرہا تھا، اب کسی وجہ سے ایک یا دو دن نہ رکھ سکا تو کیا حکم ہوگا؟ اور یا رکھنا ہی چھوڑ دیا؟

جواب

1۔۔ ایامِ بیض (قمری مہینے کی 13، 14، 15 تاریخ) کے روزے مستحب ہیں، ان کا رکھنا فضیلت کا باعث ہے، اور نہ رکھنے میں گناہ نہیں ہے، اگر کسی شخص کا مستقل یہ روزے رکھنے کا معمول ہے تو یہ انتہائی سعادت کی بات ہے، البتہ اگر کبھی اس سے یہ روزے رہ جائیں تو قضا یا گناہ نہیں ہوگا۔ بلکہ اگر کسی عذر (بیماری یا سفر شرعی) کی وجہ سے رہ جائیں تو احادیثِ مقدسہ کی رو سے ان ایام کے روزوں کا بھی اجر ملے گا۔

2۔۔ یہ کہنا کہ "میں ہر ماہ تین دن کے روزے رکھوں گا چاہے کچھ ہوجاۓ" نذر کے الفاظ نہیں ہے،  بلکہ نیک کام کا تاکیدی ارادہ ہے، اور نیک کام کے ارادہ کو پورا کرنا چاہیے، البتہ اگر کبھی یہ روزے رہ جائیں تو  بھی گناہ نہیں ہوگا اور نہ ہی قضا لازم ہوگی۔فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144004200610
تاریخ اجراء :13-01-2019

فتوی پرنٹ