1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. زکوٰۃ / صدقات
  4. صدقۃ الفطر

صدقہ فطر زکات کا عوض ہے یا نہیں؟

سوال

آیا صدقہ فطر  زکات کا عوض ہے یا نہیں ؟

جواب

صدقہ فطر زکات کا  عوض نہیں ہے، صدقہ فطر اور زکات دونوں الگ الگ مستقل مالی عبادتیں ہیں، دونوں کا الگ الگ نصاب ہے، کسی ایک کے ادا کرنے سے دوسرا ادا نہیں ہوگا۔

صدقہ فطر ہر اس شخص پر (اپنی طرف سے اور زیرِ کفالت نابالغ اولاد کی طرف سے) لازم ہوتا ہے جو عید الفطر کے دن (یکم شوال کی) صبح صادق کے وقت ضرورتِ اصلیہ سے زائد اتنے سامان یا مال کا مالک ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زائد ہو، خواہ وہ مال نقدی، سونا، چاندی یا مالِ تجارت کی صورت میں نہ ہو۔ اسی طرح اس کے وجوب کے لیے مال کے اوپر سال گزرنا بھی شرط نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008200193
تاریخ اجراء :15-04-2019

PDF ڈاؤن لوڈ