1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. زکوٰۃ / صدقات
  4. نفلی صدقات

صدقہ کا مصرف

سوال

صدقہ کون کون کھا سکتا ہے؟ اور اس کے بارے میں ایک حدیث بھی بیان کر دیں!

جواب

زکاۃ اور صدقاتِ واجبہ (صدقہ فطر، فدیہ، نذر اور کفارات) کے مصارف متعین ہیں ،یعنی غرباء مساکین ہیں،جن میں تملیک(مستحق کو مالک بنانا) شرط ہے ، جب کہ نفلی صدقات کسی بھی خیر کے کام میں صرف کیے جاسکتے ہیں ، اس میں تملیک شرط نہیں ہے ، مال دار کو بھی نفلی صدقہ دیا جاسکتا ہے، پھر نفلی صدقہ میں بہتر یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں پر خرچ کرے، جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ عمرو بن جموح  رضی اللہ عنہ  ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ ہم کیا خرچ کریں اور کس پر خرچ کریں؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

{يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللّهَ بِهِ عَلِيمٌ} 

یعنی  لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خیرات کریں اور صدقہ دیں؟ کہہ دیجیے  کہ جو مال بھی تم صرف کرنا چاہو ، سو وہ  ماں، باپ،  عزیزوں، یتیموں، مساکین اور مسافروں پر خرچ کرو، اور جو مال بھی تم خرچ کروگے اللہ تعالیٰ اس سے ضرور باخبر ہیں۔

مختصر تفسير البغوي المسمى بمعالم التنزيل (1/ 82):
"قوله تعالى: {يسألونك ماذا ينفقون} [البقرة: 215] «نزلت في عمرو بن الجموح وكان شيخا كبيرا ذا مال فقال: يا رسول الله بماذا نتصدق وعلى من ننفق؟ فأنزل الله تعالى: {يسألونك ماذا ينفقون} [البقرة: 215] »".
فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008201195
تاریخ اجراء :18-05-2019

فتوی پرنٹ