1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. زکوٰۃ / صدقات
  4. نفلی صدقات

صاحبِ نصاب بیوہ کو زکاۃ دینے کا حکم

سوال

ایک بیوہ ہے، اس کے تین بچے ہیں، وہ کوئی نوکری نہیں کرتی، کوئی ذریعہ آمدن بھی نہیں ہے، اس کے پاس سونا موجود ہو جو نصاب تک پہنچتا ہو، تو ہم اس کو زکاۃ دے سکتے ہیں یا نہیں؟اگر نہیں تو اس کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟

 

جواب

اگر مذکورہ بیوہ کے پاس نصاب کے بقدر سونا موجود ہے جیسا کہ سوال میں ذکر ہے  تو ان کو زکاۃ  کی رقم دینا جائز نہ ہو گا،  پھر  اگر وہ تعاون کی محتاج ہوں تو زکاۃ  کے علاوہ دیگر نفلی صدقات سے ان کی مدد کی جا سکتی ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 47)
"وأما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلى الغني؛ لأنها تجري مجرى الهبة".
فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144001200464
تاریخ اجراء :08-10-2018

فتوی پرنٹ