1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. زکوٰۃ / صدقات
  4. نفلی صدقات

غیر مملوکہ رقم میں صدقہ کی نیت کرنا

سوال

میرے والد صاحب کا ایک پلاٹ ہے جس پر میں نے اپنے طور پر یہ نیت کی تھی کہ اگر یہ اچھی قیمت پر بک جائے تو اس سے ملنے والی رقم سے ایک اچھی رقم صدقہ کروں گا، پلاٹ ابھی تک فروخت نہیں ہوا، مسئلہ اب یہ ہے کہ اگر والد صاحب صدقہ کے لیے ایک بڑی رقم جو تقریباً دو لاکھ بنتی ہے دینے کے  لیے راضی نہ ہوں تو یہ رقم میں اپنے مال سےتھوڑی تھوڑی کر کے صدقہ کر سکتا ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ پلاٹ چوں کہ آپ کی ملکیت نہیں ہے،  اس لیے اس کی فروختگی کی رقم بھی آپ کی ملکیت نہیں؛ لہذا آپ کا اس میں سے کچھ رقم صدقہ کرنے کی نیت کا اعتبار نہیں،  نیز صرف دل میں صدقہ کی نیت سے (جب تک زبان سے الفاظ ادا نہ کیے ہوں) نذر (منت) لازم نہیں ہوتی،  تاہم آپ اپنی مملوکہ رقم میں سے نفلی طور پر صدقہ کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم 


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008202004
تاریخ اجراء :08-06-2019

فتوی پرنٹ