1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. نماز
  4. جماعت / امامت

اصل والد کے بجائے پالنے والے کا نام والدیت میں رکھنے والے شخص کی امامت

سوال

ایک شخص جو بے اولاد تھا اس نے ایک بچہ گود لیا اور اس کی ولدیت میں اپنا نام لکھوا دیا۔ اب وہ بچہ شادی شدہ ہے اور شناختی کارڈ میں ولدیت پالنے والے کی ہے سوال یہ ہے کہ:

١۔کیا ایسے شخص کی امامت میں نماز پڑھنا جائز ہے ؟

٢۔کیا اس لڑکے کا نکاح جائز ہے؟

 ٣۔جب کہ ایسے شخص کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اس فعل کے بعد حالتِ کفر میں چلا جاتا ہے۔ تفصیل سے بتائیں  کہ موجودہ صورتِ حال میں اس شخص کی کیا سزا ہے اور کیا کفارہ ہے؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کو چاہیے  کہ وہ اپنی نسبت اصل والد کی طرف کرے، اور تمام قانونی کاغذات میں بھی ولدیت کی تصحیح کروائے، تاہم اگر قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے تبدیلی ممکن نہ ہو  یا نہایت پیچیدہ ہو تو اس صورت میں مذکورہ شخص عوام میں وضاحت کردے  کہ ولدیت میں جن کا نام ہے وہ میرے اصل والد نہیں ہیں، بلکہ انہوں نے صرف مجھے پالا ہے، میرے ذمہ دار  ہونے کی وجہ سے ان کا نام میرے کاغذات میں درج ہے۔

اس وضاحت کے ساتھ مذکورہ شخص کے پیچھے نماز ادا کرنے میں حرج نہیں، بشرطیکہ وہ نماز کے احکامات سے واقف ہوں۔ اور اگر وہ وضاحت نہ کرے تو بھی اس کی اقتدا میں ادا کی گئیں نمازیں ادا ہوگئیں، ان کے اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔

۲۔مذکورہ شخص اگر بذاتِ خود نکاح کے موقع پر موجود تھا اور خود ایجاب و قبول میں شامل رہا تو اس کا نکاح شرعاً درست ہے۔

۳۔ احادیثِ مبارکہ میں اپنے حقیقی والد کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف بطورِ ولدیت نسبت کی سخت ممانعت ہے، بعض احادیث میں جانتے بوجھتے ایسا کرنے والے پر جنت حرام قرار دی گئی ہے، اور بعض روایات میں ہے کہ اسے کفر قرار دیا گیا ہے، اور بعض میں اسے موجبِ لعنت قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح کی روایات کا مطلب شراح محدثینِ کرام رحمہم اللہ نے یہ بیان کیا ہے کہ اگر اسے حلال اور جائز سمجھ کر کرے تو کفر ہے اور جنت حرام ہے۔ البتہ اگر وہ اسے ناجائز ہی سمجھتے ہوئے غیرِ والد کی طرف بطورِ ولدیت نسبت کرے تو کفر لازم نہیں ہوگا، اور جنت بھی ہمیشہ کے لیے حرام نہیں ہوگی، لیکن جانتے بوجھتے ایسی نسبت کرنا کبیرہ گناہ ہوگا اور عذاب کا اندیشہ ہوگا۔ اور اس صورت میں کفر کا مطلب نعمتِ والد کی ناشکری ہوگا۔

اور اگر انجانے میں ایسا ہوجائے، (یعنی کسی بچے کو بتایا ہی نہ جائے کہ اس کا حقیقی والد کون ہے، اور بڑوں نے اس کی نسبت غیر والد کی طرف  کی گئی اور یہ ساری زندگی دوسرے شخص کو اپنا والد سمجھتا یا کہتا رہا تو جب تک اسے حقیقت کا علم نہ ہو، اس صورت میں نسبت کرنے سے) یا غیر والد کی طرف نسبت بطورِ ولدیت نہ ہو، بلکہ اعتراف کرے کہ میرے حقیقی والد فلاں ہیں اور یہ شخص مجھے پالنے والا یا میرا سرپرست ہے تو ایسی صورت میں نہ کفر لازم آئے گا اور نہ ہی جنت حرام ہوگی۔ خود احادیثِ مبارکہ میں ہی علم رکھتے ہوئے نسبت کرنے اور بطورِ ولدیت نسبت کرنے کی قیودات موجود ہیں۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008201206
تاریخ اجراء :18-05-2019

فتوی پرنٹ