1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. نماز
  4. جماعت / امامت

کیا مسافر امامت کراسکتا ہے؟ / کیا مسافر امام کے پیچھے مقیمین کو جماعت کا مکمل ثواب ملے گا؟

سوال

مسافر کا کن صورتوں میں امامت کرنا جائز، اور کن صورتوں میں ضروری یا واجب ہوگا؟ اس کی وضاحت فرمائیں کہ مقیم کا امامت کرنا بہتر ہے یا مسافر کا؟ جب کہ مسافر امام کو قصر ادا کرنی ہو گی اور مقیم مقتدی کو پوری نماز ادا کرنی ہے۔ میرے علاقے کی مسجد میں ایک دن ایک بہت بڑے عالمِ دین مسجد کے پیش امام کی دعوت پر دوسرے شہر سے تشریف لائے۔ مسجد کے پیش امام نے ان عالمِ دین کو عصر کی نماز پڑھانے کی پیشکش کی، مگر مقتدی حضرات میں سے چند نے اس بات کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ مسجد ہے مسافر خانہ نہیں، اس لیے ہم قصر والے امام کے پیچھے نماز ادا نہیں کریں گے۔ یہ بتائیں کہ ایک بڑے عالمِ دین اور بزرگ ہستی کی موجودگی میں صرف سفر میں ہونے کی وجہ سے ان کی امامت سے انکار کیا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ مسافر مقیمین کی امامت کراسکتا ہے، مسافر امام کی قصر نماز ادا کرنے کی وجہ سے مقیمین کی نماز کے ثواب میں کچھ کمی نہیں ہوتی، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر ہونے کے باوجود اہلِ مکہ کی امامت کرائی تھی اور اپنی نماز دو رکعت ادا کرنے کے بعد باقاعدہ اعلان فرمایا تھا : تم اپنی نماز پوری کرلو؛ کیوں کہ ہم مسافر ہیں۔ پس صورتِ مسئولہ ایک بڑے عالمِ دین کی آمد پر مسجد کے مقررہ امام کی جانب سے ان سے عصر کی نماز کی امامت کا مطالبہ درست تھا، بعض لوگوں کی جانب سے اعتراض کرنا احکاماتِ دینیہ سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ البتہ کبھی ایسا موقع پیش آجائے تو مقتدیوں کو پہلے مسئلے سے آگاہ کردینا چاہیے، اور بقیہ نماز ادا کرنے کا طریقہ بھی بتادینا چاہیے۔ بہتر ہوتا کہ مذکورہ مسجد کے نمازیوں کے سامنے رسول اللہ ﷺ کا عمل بیان کردیا جاتا، حضور ﷺ کی ذات میں ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہے۔ 

"وبعكسه" بأن اقتدى مقيم بمسافر "صح" الاقتداء "فيهما" أي في الوقت وفيما بعد خروجه؛ لأنه صلى الله عليه وسلم صلى بأهل مكة وهو مسافر، وقال: "أتموا صلاتكم فإنا قوم سفر". ( حاشية الطحطاوي علي مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ١/ ٤٢٧)  فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008200791
تاریخ اجراء :07-05-2019

فتوی پرنٹ