1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. نماز
  4. جماعت / امامت

مردوں سے مدد مانگنے والے امام کی اقتدا میں نماز کا حکم

سوال

 کیا مردوں سے استغاثہ کرنے والے مشرک امام کی اقتدا میں نماز پڑھی جا سکتی ہے؟

جواب

اگر  واقعۃً  کوئی امام مردوں سے  اس عقیدے سے مدد مانگتا ہے کہ ان  میں ذاتی طور پر قدرت و طاقت ہے کہ وہ جو چاہیں کر سکتےہیں، یا  ان  کو خدا نے تمام اختیار دے دیے  ہیں اور وہ جو چاہیں کرسکتے ہیں، ہر قسم کی مرادیں ہر جگہ سے ان سے مانگی جاسکتی ہیں تو یہ  عمل  شرک ہے جو  ناجائز  اور حرام ہے، ایسے امام کے پیچھے نماز ادا کرنا جائز نہیں ہوگا۔ 

البتہ اگر کسی شخص کے عقیدے کے بارے میں یقینی طور پر معلوم نہ ہو  یا بلا احتمال قطعی طور پر ثابت نہ ہو کہ اس کا شرکیہ عقیدہ ہے تو اسے مشرک کہنا درست نہیں ہے، گو وہ گم راہ اور شدید گناہ گارہو۔  یہی وجہ ہے کہ اکابرِ دیوبند نے مبتدعین کے بعض مشتبہ عقائد کے باوجود ان کے شرک و کفر کا فتویٰ نہیں دیا ہے، اس لیے کہ  اہلِ بدعت تاویل کے  سہارے  یہ نظریات رکھتے ہیں۔ 

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144010200444
تاریخ اجراء :27-06-2019

فتوی پرنٹ