1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. نماز
  4. جماعت / امامت

مسبوق کا امام کے ساتھ ایک سلام پھیرنے کے بعد یاد آنے پر فوراً کھڑے ہوجانے کا حکم

سوال

نماز میں ایک رکعت تاخیر ہو گئی تو  امام صاحب نے جب ایک طرف السلام علیکم و رحمۃاللہ کہا تو میں نے بھی کہا، اور منہ پھیرا، لیکن ساتھ ہی یاد آگیا اور میں آخری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا، اب کیا مجھ پر سجدہ سہو واجب ہو گیا؟

جواب

جس شخص کی امام کے ساتھ ایک یا ایک سے زائد رکعتیں نکل جائیں اسے ’’مسبوق‘‘ کہتے ہیں، مسبوق کو چاہیے  کہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد سلام پھیرے بغیر کھڑا ہوکر اپنی چھوٹی ہوئی رکعتیں پوری کرلے ، لیکن مسبوق اگرغلطی سے بھول کر امام کے ساتھ ایک طرف سلام پھیر دے اور پھر فوراً  یاد آجانے پر کھڑا ہوکر اپنی رکعت پوری کرلے تو اس پر سجدہ سہو واجب ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ اگر اس نے سلام بالکل امام کے ساتھ  ساتھ متصلاً پھیرا تھا، یعنی اس کے سلام کہنے کے الفاظ امام کے بالکل ساتھ ساتھ ادا ہوئے تھے، الفاظ کی ادائیگی میں امام کے مقابلے میں ذرا سی بھی تاخیر نہیں ہوئی تھی، (اگرچہ عام طور سے ایسا ہونا بہت مشکل یا شاذ و نادر ہی ہے) تو اس صورت میں اس پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا۔  لیکن اگر مسبوق نے امام کے بالکل ساتھ ساتھ متصلاً  ایک طرف سلام نہ پھیرا ہو، بلکہ اس کے لفظ ’’السلام‘‘ کہنے کی ادائیگی امام کے بعدذرا سی بھی تاخیر سے ہوئی ہو ( جیسا کہ عام طور سے ہوتا ہے) تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی باقی رکعتیں پوری کرنے کے بعد آخر میں سجدہ سہو بھی کرلے، اسی طرح اگر مسبوق غلطی سے بھول کر دونوں طرف سلام پھیر نے کے بعد یاد آنے پر نماز کے منافی کوئی کام کیے بغیر باقی رکعتوں کے لیے کھڑا ہوجائے تو بھی اس پر سجدہ سہو لازم ہوجائے گا، جن صورتوں میں مسبوق پر غلطی سے امام کے ساتھ سلام پھیرنے کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہے ان صورتوں میں اگر اس نے سجدہ سہو نہ کیا تو  اس وقت کے اندر وہ نماز واجب الاعادہ ہوگی، اور وقت گزرنے کے بعد اعادہ مستحب ہوگا۔ 

لہٰذا اگر آپ نے امام کے بالکل ساتھ ساتھ سلام پھیرا تھا تو آپ پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوا تھا، لیکن اگر آپ نے امام کے ذرا بعد بھی سلام پھیرا تھا تو آپ پر سجدہ سہو واجب ہوگیا تھا۔

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144010200323
تاریخ اجراء :22-06-2019

فتوی پرنٹ