1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. نماز
  4. جماعت / امامت

فجر کی جماعت کھڑی ہونے کی صورت میں سنت پڑھنے کا مدار امام کے ساتھ دوسری رکعت کا رکوع ملنے پر ہے یا تشہد ملنے پر؟

سوال

فجر کی سنتیں کب تک پڑھنا درست ہے ؟ جب تک قعدہ اخیرہ ملنے کی توقع ہو یا رکوع ثانی ملنے کی توقع ہو ؟

جواب

اگر کوئی شخص فجر کی نماز کے لیے مسجد آئے اور جماعت شروع ہو گئی ہو تو اگر اسے امید ہوکہ وہ سنتیں پڑھ کر امام کے ساتھ قعدہ اخیرہ میں شامل ہوجائے گا، تو اسے چاہیے کہ (کسی ستون کے پیچھے، یا برآمدے یا صحن میں یا جماعت کی صفوں سے ہٹ کر)  فجر کی سنتیں ادا کرے اور پھر امام کے ساتھ نماز /قعدہ میں شامل ہوجائے۔ اور اگر سنتیں پڑھنے کی صورت میں نماز مکمل طور پر نکلنے کا اندیشہ ہو تو سنتیں چھوڑ دے اور فرض نماز میں شامل ہوجائے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اس بارے میں کتبِ فتاویٰ میں دو قول ملتے ہیں، ایک قول یہ کہ دوسری رکعت کا رکوع ملنے کی امید ہو تو سنت پڑھ لے ورنہ چھوڑ دے، جب کہ دوسرا قول یہ ہے کہ اگر سنت پڑھنے کی صورت میں قعدہ اخیرہ ملنے کی بھی امید ہو تو سنت نہیں چھوڑنی چاہیے، اور یہی (قعدہ اخیرہ والا) قول راجح ہے۔

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008202078
تاریخ اجراء :10-06-2019

فتوی پرنٹ