1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. لباس / وضع قطع
  4. پردے کے احکام

عورت کے لیے چہرہ کا پردہ اور برقعہ پہننے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہے علمائے کرام و مفتیانِ عظام، عورتوں کے  چہرے کے پردہ کے بارے میں، کیا یہ بات صحیح ہے کہ اجماع کی  بناپر عورتوں کا چہرے کاپردہ فتنہ کے زمانے میں واجب ہے ؟ کیا اسی زمانہ ، فتنہ کی دوران ہے ؟ شریعت نے ، برقع (روبند) کا استعمال کرنے کے بارے میں کیا حکم دیا ہے ؟

جواب

عورت کے چہرے کا پردہ صرف اجماع کی وجہ سے یا صرف فتنے کے زمانے کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ بہت سی نصوص سے چہرے کا پردہ ثابت ہے، اور خیر القرون میں جب ازواجِ مطہرات اور صحابیات رضوان اللہ علیہن کو چہرے کے پردے کا حکم تھا اور انہوں نے اس کا اہتمام کیا تو اس دور میں بدرجہ اولیٰ مؤمنات کو چہرے کے پردے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آیاتِ حجاب کی تفسیر میں چہرہ چھپانے اور صرف ایک یا دونوں آنکھیں کھلی رکھنے کی اجازت نقل فرمائی ہے۔ ان سب نصوص سے معلوم ہوا کہ چہرے کا پردہ اصل میں تو قرآن وحدیث سے ہی ثابت ہے، باقی اگر یہ اجماعِ امت سے ہی ثابت ہوتا تو بھی اجماع شرعی حجت ہے، اس صورت میں بھی اسی معمولی اور ہلکا نہ سمجھا جائے۔

عورت چھپی ہوئی اور پوشیدہ رہنے کی چیز ہے۔ اس کے بارے میں شریعت میں حکم ہے کہ وہ اپنے گھر ہی میں رہے اور اپنے آپ کو چار دیواری تک محدود رکھے، البتہ ضرورتِ شرعی یا طبعی کے مواقع میں عورت کے لیے گھر سے باہر کسی بڑی چادر یا اس کے قائم مقام برقعہ سے اپنے پورے جسم کو ڈھانپ کر نکلنے کی اجازت ہے۔

 فتنہ کے خطرہ کے پیشِ نظر عورت پر اپنے چہرے کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کو بھی ڈھانپنا ضروری ہے،  بلکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عورت صرف ایک آنکھ کھلی رکھے۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے:   

 ’’ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب عورتیں کسی ضرورت کے تحت اپنے گھروں سے نکلیں تو انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ وہ بڑی چادروں کے ذریعہ اپنے سروں کے اوپر سے اپنے چہروں کو ڈھانپ لیں اور صر ف ایک آنکھ کھلی رکھیں اور محمد بن سیرین ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے عبیدۃ السلمانی سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : {یدنین علیهن من جلابیبهن} کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اپنے سر اور چہرہ کو ڈھانپ کر اور بائیں آنکھ کھول کر ا س کا مطلب  بتلایا‘‘۔  (تفسیر ابن کثیر للإمام أبي الفداء الحافظ ابن کثیر الدمشقي ، سورة الأحزاب: تحت الآیة: {یدنین علیهن من جلابیبهن ...الخ: ۳؍۵۳۵۔ ط:قدیمی کراچی)

بہرحال عورتوں کے لیے گھر سے باہر ضرورتِ شرعی یا ضرورتِ طبعی کے موقع پر اس شرط کے ساتھ نکلنے کی اجازت ہے کہ وہ پردہ کا مکمل اہتمام کریں اور اپنے اعضاء بالکل ظاہر نہ ہونے دیں،   جسم کو چھپانے کے لیے شریعت نے کوئی خاص طریقہ یا کپڑا یا برقعہ کا نمونہ متعین نہیں کیا، لہذا جو چادر یا برقعہ عورت پہنے، اس میں درج ذیل چیزیں ضروری ہیں:

1۔  برقعہ یا چادر ایسی باریک نہ ہو جس سے اندر کے اعضاء ظاہر ہونے لگیں او رجسم کی ساخت واضح ہو، ورنہ ایسا برقعہ،برقعہ کہلانے کا حق دار نہیں، بلکہ یہ برقعہ لوگوں کو اور زیادہ برائی کی دعوت دینے کا ذریعہ اور سبب بنے گا جس کو پہن کر باہر نکلنا ناجائز ہے۔

2۔۔ ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلنے والی عورتیں اس بات کا بھی اہتمام کریں کہ جو چادر یا برقعہ استعمال کریں وہ ایسا خوبصورت اور عمدہ نہ ہو کہ اس بنا پر لوگوں کو ان کی طرف نظریں اٹھانے کا موقع ملے۔ بلکہ عام معمولی سے برقعہ میں نکلیں۔

3۔۔ کسی بھی قسم کی زیب و زینت اور مہکنے والی خوشبو  لگاکر باہر نکلنے سے سے پوری طرح بچنے کا اہتمام کیا جائے۔  (مستفاد از فتاوی بینات)فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144007200319
تاریخ اجراء :25-03-2019

فتوی پرنٹ