1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. لباس / وضع قطع
  4. پردے کے احکام

عورت کے چہرے کا پردہ

سوال

  کیا یہ بات صحیح ہے کہ اجماع کی بناپر ، عورتوں کا پوشش چہرہ ، فتنہ کے زمانے میں واجب ہے؟ کیا اسی زمانہ  فتنہ کے دوران ہے؟ شریعت نے ، برقع (روبند) کا استعمال کرنے کے بارے میں کیا حکم دیا ہے؟ 

جواب

شریعتِ مطہرہ نے عورت پر پردے کو لازم کیا ہے؛ تاکہ ان کی عزت اور احترام میں اضافہ ہو،پردہ سر سے لے کر پاؤں تک تمام اعضاء کا ہے خصوصاً چہرہ کا پردہ اس لیے کہ باعثِ کشش اور ذریعۂ فتنہ عورت کا چہرہ ہی ہے، ورنہ دوسرے بدن پر تو اس نے لباس پہن ہی رکھا ہوتا ہے!
قرآنِ کریم بھی ہمیں اس کی طرف راہ نمائی کرتا ہے کہ عورت کے چہرہ کا پردہ ہے، چنانچہ ارشاد ہے: 
{یا ایها النبی قل لازواجک و بنٰتک و نسآء المؤمنین یدنین علیهن من جلابیبهن} (الاحزاب:۵۹ )
ترجمہ: ’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی ازواجِ مطہرات، اپنی بیٹیوں اور مؤمن عورتوں سے فرمادیجیے کہ اپنے (چہروں) پر پردے لٹکالیا کریں۔‘‘
اسی طرح یہ حکم بھی چہرے کے پردے کی طرف متوجہ کرتا ہے: 
{ واذا سألتموهن متاعاً فاسئلوهن من وراء حجاب} (الاحزاب:۵۳)
ترجمہ: ’’جب ازواج مطہرات سے کچھ پوچھنا ہو تو پردے کے پیچھے سے پوچھا کریں۔‘‘ 
جب خیرالقرون میں امہات المومنین رضی اللہ عنہن جیسی پاکیزہ و مقدس ہستیوں کو یہ حکم ہواتو پندرھویں صدی کے اس شر و فتنہ کے دور اور مادر پدر آزاد ماحول کے آزاد خیال مردوں سے عورت کو چہرہ کے پردہ کا حکم کیوں نہ ہوگا؟
اسی طرح صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قافلہ سے بچھڑ جانے والے قصہ میں ان کا یہ فرمانا : قافلے سے پیچھے آنے والے صحابی کے ’’انا للہ‘‘ پڑھنے پر میں فوراً  نیند سے بیدار ہوگئی اور اپنا چہرہ چھپالیا۔ یہ بھی  اس بات کی دلیل ہےکہ عورت کے چہرے کا پردہ فرض ہے۔

لہذا چہرے کے پردے کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ اجماع کی وجہ سے لازم ہے، درست نہیں، اور اگر ایساہو  تب بھی اجماع کوئی ہلکی چیز نہیں ہے کہ اس سے ثابت شدہ حکم کو اہمیت نہ دی جائے، یہ مستقل دلیل شرعی ہے۔فقط واللہ ا علم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144004200683
تاریخ اجراء :16-01-2019

فتوی پرنٹ