1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. لباس / وضع قطع
  4. پردے کے احکام

بیوی کیا اپنے دیوروں کی خدمت کر سکتی ہے؟

سوال

کوئی عورت اپنی بیٹی کو شرعی پردہ کی عادت ڈالے جو کہ یقیناً انتہائی مستحسن ہے، پھر جب اس لڑکی کا رشتہ آئے ایسےگھرانے سے جو جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہوں اور دین دار بھی ہوں اور وہ عورت اپنی بیٹی کا یہ کہہ کر رشتہ رد کردے کہ آپ لوگ جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں اور شریعت میں دیوروں کی خدمت مثلاً کپڑے استری کرنا ان کو کھانا دینا وغیرہ پردہ میں رہ کر بھی یہ ممنوع ہے. اب سوال یہ ہے کہ پردہ میں رہ کر لڑکی کس حد تک دیوروں کی خدمت کر سکتی ہے؟ شریعت کا کیا حکم ہے اس بارے میں؟

جواب

واضح رہے کہ شرعی پردہ بہت فضیلت و اجر و ثواب کا باعث ہے، تاہم اگر کوئی جوائنٹ فیملی میں رہتا ہو تو اسے اس بات کا خاص اہتمام کرنا چاہیے کہ نامحرم کے ساتھ خلوت میں بالکل اختلاط نہ ہو اور بے جا ہنسی مذاق سے بھی اجتناب کرے، رہی بات یہ کہ خاتون اپنے دیوروں کی خدمت کس حد تک کر سکتی ہے تو اصل حکم تو یہی ہے کہ خاتون پر اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کی خدمت لازم نہیں، البتہ شوہر کے والدین کی خدمت اس پر  اخلاقی وعرفی طور پر لازم ہے، شوہر کے والدین کے علاوہ دیگر افراد کی کوئی ذمہ داری اس پر نہیں ہے، تاہم اگر فتنہ کا باعث نہ ہو تو دیور وغیرہ کے کپڑے دھو بھی سکتی ہے اور استری بھی کر سکتی ہے۔ اپنے شوہر اور اس کے والدین کے لیے کھانا پکانے کے ساتھ ساتھ گھر کے دیگر افراد  دیور وغیرہ کے لیے بھی کھانا پکا سکتی ہے، کھانا پکانا ممنوع نہیں ہے، بلکہ اگر ساس بوڑھی ہوں اور گھر میں کھانا پکانے والا کوئی اور نہ ہو تو گھر کے دیگر افراد کے لیے بھی کھانا پکا لینا چاہیے،  ہاں بغیر پردہ دیور کے سامنے کھانا پیش کرنا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144003200001
تاریخ اجراء :09-11-2018

فتوی پرنٹ