1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. لباس / وضع قطع
  4. پردے کے احکام

شرعی پردے کا حکم

سوال

میری بیٹی شرعی پردہ کرتی ہے جس کی وجہ سے رشتے رد بھی ہو سکتے ہیں کیوں کہ آج کل شرعی پردے والی لڑکی کو کوئی پسند نہیں کرتا، میری بیٹی کی عمر تیس سال ہے۔

جواب

آپ کی بیٹی کا شرعی پردہ کرنا لائقِ مبارک باد ہے اور آپ کو چاہیے کہ آپ اس سلسلے میں اپنی بیٹی کی حوصلہ افزائی کریں، پردہ  عورت کی عزت کا ضامن ہے، ہر عورت کے لیے پردہ کرنا نہایت ضروری ہے، خواہ دنیا والے اس سے خوش ہوں یا ناخوش، قرآنِ مجید میں عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ سوائے ان حصوں کے جن کا اظہار ناگزیر ہے اپنی زینت کا اظہار نہ کریں۔ علاوہ ازیں سورہٴ احزاب میں حکم دیا گیا ہے کہ اپنی چادریں اپنے گریبانوں پر لٹکالیا کریں یعنی گھونگھٹ نکالیں، چہروں اور سینوں کو چھپائیں۔

{قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذلِكَ أَزْكى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِما يَصْنَعُونَ (30) وَقُلْ لِلْمُؤْمِناتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلاَّ مَا ظَهَرَ مِنْها وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلى جُيُوبِهِنَّ وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلاَّ لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبائِهِنَّ أَوْ آباءِ بُعُولَتِهِنَّ } (النور آیت نمبر 30-31)

{يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْواجِكَ وَبَناتِكَ وَنِساءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلابِيبِهِنَّ ذلِكَ أَدْنى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلا يُؤْذَيْنَ وَكانَ اللَّهُ غَفُوراً رَحِيماً} (الاحزاب آیت نمبر 59)

لہذا اس حکمِ شرعی کو پورا کرنے میں ذرا تامل نہ کرنا چاہیے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اس شرعی حکم کی تعمیل کی وجہ سے آپ کی بیٹی کے رشتے میں رکاوٹ نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144004200211
تاریخ اجراء :21-12-2018

فتوی پرنٹ