1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. لباس / وضع قطع
  4. پردے کے احکام

قریبی رشتہ داروں سے پردے کا حکم

سوال

اجتماعی خاندانوں میں چہرے کے پردے کے بارے میں ہر ایک کو بہت دقت کا سامنا ہوتا ہے ۔ کیا ان خاندانوں میں بھابھی، چچا زاد بہن وغیرہ کا چپرہ دیکھنا جائز ہے؟ اگر ہاں تو کس حد تک؟

جواب

ہر وہ نا محرم عورت  جس سے کسی بھی وقت نکاح کرنا جائز ہو سکتا ہو اس سے شریعت میں پردے کا حکم آیا ہے،چاہے وہ رشتے دار ہو یا اجنبی خاتون۔

تاہم مشترکہ گھر میں رہنے والی رشتہ دار نا محرم خواتین جن سے مکمل پردہ کرنے میں سخت حرج اور مشکل پیش آتی ہو ان کے بارے میں شریعت میں اتنی گنجائش ہے کہ وہ  خواتین اپنے سر پر بڑی چادر اس طور پر لپیٹ لیا کریں کہ سوائے چہرے کے باقی جسم  ڈھک جائے،البتہ اس کا اہتمام ضروری ہے کہ نامحرم مردوں کے ساتھ نہ تنہائی ہو اور نہ بلاضرورت گفتگو ہو۔


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :143703200008
تاریخ اجراء :17-12-2015

فتوی پرنٹ