1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. باہمی حقوق
  4. میاں ، بیوی کے حقوق

بیوی کو الگ واش روم فراہم کرنا

سوال

شادی کے بعد بیوی کو الگ باتھ روم دینے کے حوالہ سے شرعی حکم کیا ہے؟ میرے گھر میں دو باتھ روم ہیں، کیا  ایک جو  میرے کمرے کے ساتھ  ہے اس کو صرف میری بیوی استعمال کر سکتی ہے یا باقی گھر والے بھی استعمال کرسکتے ہیں؟ ہمارے گھر میں اس معاملہ میں اکثر بحث ہوتی رہتی ہے، اس معاملہ میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شوہر پر شرعاً لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کو رہائش کے لیے ایسی جگہ فراہم کرے جس میں عملاً کسی اور کا دخل نہ ہو ۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر دو بیت الخلاء میں سے ایک، کمرے کا ہی حصہ ہو تو وہ بیت الخلاء سائل اور اس کی بیوی کے لیے خاص ہوگا، البتہ اگر وہ کمرے کا حصہ نہیں ہے ، بلکہ مشترکہ ہے تو اس صورت میں   باہمی رضامندی سے ایک بیت الخلاء گھر والوں کے لیے متعین کردیا جائے اور دوسرا سائل اپنے اور اپنی بیوی کے لیے متعین کردے تو کرسکتا ہے، شرعاً اس کی اجازت ہے۔ اور اگر بیوی کے گھرانے میں سب کے الگ بیت الخلاء ہونے کا رواج ہو تو اس صورت میں شوہر کو اسے الگ بیت الخلاء کرنا ہوگا۔ باقی حسنِ معاشرت میں اصول اور قواعد سے زیادہ اخلاق اہمیت رکھتے ہیں، موقع محل کو دیکھتے ہوئے جانبین کو وسعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"تجب السكنی لها عليه في بيت خال عن أهله و اهلها إلا أن تختار ذلك، كذا في العيني شرح الكنز". (الفصل الثاني في السكني، ١/ ٥٥٦، ط: رشيدية)

البحر الرائق میں ہے:

"(قَوْلُهُ: وَالسُّكْنَى فِي بَيْتٍ خَالٍ عَنْ أَهْلِهِ وَأَهْلِهَا) مَعْطُوفٌ عَلَى النَّفَقَةِ أَيْ تَجِبُ السُّكْنَى فِي بَيْتٍ أَيْ الْإِسْكَانُ لِلزَّوْجَةِ عَلَى زَوْجِهَا؛ لِأَنَّ السُّكْنَى مِنْ كِفَايَتِهَا فَتَجِبُ لَهَا كَالنَّفَقَةِ، وَقَدْ أَوْجَبَهَا اللَّهُ تَعَالَى كَمَا أَوْجَبَ النَّفَقَةَ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: {أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ} [الطلاق: ٦] أَيْ مِنْ طَاقَتِكُمْ أَيْ مِمَّا تُطِيقُونَهُ مِلْكًا أَوْ إجَارَةً أَوْ عَارِيَّةً إجْمَاعًا، وَإِذَا وَجَبَتْ حَقًّا لَهَا لَيْسَ لَهُ أَنْ يُشْرِكَ غَيْرَهَا فِيهِ؛ لِأَنَّهَا تَتَضَرَّرُ بِهِ؛ فَإِنَّهَا لَا تَأْمَنُ عَلَى مَتَاعِهَا وَيَمْنَعُهَا ذَلِكَ مِنْ الْمُعَاشَرَةِ مَعَ زَوْجِهَا وَمِنْ الِاسْتِمْتَاعِ إلَّا أَنْ تَخْتَارَ؛ لِأَنَّهَا رَضِيَتْ بِانْتِقَاصِ حَقِّهَا". (٤/ ٢١٠) فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144003200176
تاریخ اجراء :21-11-2018

فتوی پرنٹ