1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. باہمی حقوق
  4. اولاد کے حقوق

ارطغرل نام کے معنی اور بچے کا نام ارطغرل رکھنے کا حکم

سوال

’’ارتغل‘‘  کا معنی کیا ہے؟  اور یہ نام رکھنا بچے کے لیے کیساہے؟  ساتھ ہی یہ بتادیں کہ یہ ’’ارتغل‘‘ صحیح ہے یا ’’ارتغرل‘‘  یا ’’ارطغل‘‘  یا ’’ارطغرل‘‘؟

جواب

اس نام کا صحیح تلفظ ”ارطغرل“ ہے،  ارطغرل (Ertuğrul) ترکی زبان کا لفظ ہے،  ترکی میں ’’ار‘‘  کے معنی آدمی، بہادر  یا فوجی کے ہیں، ’’طغرل‘‘  کے معنی عقاب، زخمی کرنے والا بہادر پرندہ، اس اعتبار سے ترکی زبان میں ’’ارطغرل‘‘  کے معنی ہیں: بہادر آدمی، عقابی شخص۔

’’ارطغرل‘‘  یہ غازی ارطغرل /ارطغرل بک کا نام ہے، یہ خلافتِ عثمانیہ کے بانی ’’عثمان اول‘‘ کے والد تھے، اور ترک اوغوز کی شاخ قبیلہ قائی کے سردار تھے، اور سلجوقیہ کے تابع تھے، انہیں عام طور پر غازی کے لقب سے پہچانا جاتا ہے، نہایت، بہادر، نیک اور عادل شخص تھے، سلجوقی حکومت میں ان کے ہاتھ پر کئی فتوحات ہوئی ہیں۔

بچے کا نام ’’ارطغرل‘‘  رکھنا جائز ہے، البتہ ہمارے ہاں برصغیر میں اس کا صحیح تلفظ مشکل ہے، اور عام طور پر زبان پر روانی سے یہ نام نہیں بولا جاتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ نام کا صحیح تلفظ خراب کردیتے ہیں، اس لیے کوئی عربی نام یا صحابہ کے ناموں میں سے انتخاب کرکے نام رکھا جائے تو یہ زیادہ اچھا ہے۔

سمط النجوم العوالي في أنباء الأوائل والتوالي (4/ 70):
"ومبدأ ظُهُورهمْ وَسبب ملكهم أَن آل سلجوق لما تركُوا وطنهم من فتْنَة جنكز خَان ملك التتار وعزموا إِلَى جَانب بِلَاد الرّوم جَاءَ مَعَهم من طَائِفَة أغوز رجل اسْمَع أرطعزل يتَّصل نسبه بياقث بن نوح عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام وَكَانَ بِصُحْبَتِهِ نَحْو ثَلَاثمِائَة وَأَرْبَعين رجلا وَكَانَ شجاعاً ثمَّ تشمر فِي خدمَة السُّلْطَان عَلَاء الدّين كيقباد بن كيخسرو بن قلج أرسلان بن طغرل السلجوقي وَكَانَ يُحِبهُ السُّلْطَان عَلَاء الدّين لكَونه شجاعاً وَفتحت على يَدَيْهِ بِلَاد كَثِيرَة من بِلَاد الْكفَّار وَلما كَانَت سنة 697 سبع وَتِسْعين وسِتمِائَة توفّي الْغَازِي أرطغرل فَكتب السُّلْطَان عَلَاء الدّين لعُثْمَان بن أرطغرل بموافقة السلطنة وَأرْسل إِلَيْهِ خلعة وسيفاً ونقارة وَخَصه بالغزو على الْكفَّار فَسَار عُثْمَان بن أرطغرل فَفتح اينه كولي ويني شهر وكوبري حِصَار وبلجك وَغير ذَلِك ثمَّ لما توفّي السُّلْطَان عَلَاء الدّين سنة تسع وَتِسْعين وسِتمِائَة اجْتمع أَكثر الْغُزَاة عِنْد عُثْمَان بن أرطغرل فتسلطن عُثْمَان الْغَازِي وَجلسَ على تخت السلطنة فِي السّنة الْمَذْكُورَة..." الخ

تاريخ الدولة العلية العثمانية (ص: 115):
"ومؤسس هَذِه الدولة هُوَ ارطغرل بن سُلَيْمَان شاه التركماني قَائِد احدى قبائل التّرْك النازحين من سهول اسيا الغربية إِلَى بِلَاد اسيا الصُّغْرَى وَذَلِكَ انه كَانَ رَاجعا إِلَى بِلَاد الْعَجم بعد موت ابيه غرقا عِنْد اجتيازه اُحْدُ الانهر اذ شَاهد جيشين مشتبكين فَوقف على مُرْتَفع من الارض ليمتع نظره بِهَذَا المنظر المالوف لَدَى الرحل من الْقَبَائِل الحربية وَلما انس الضعْف اُحْدُ الجيشين وَتحقّق انكساره وخذلانه ان لم يمد اليه يَد المساعدة دبت فِيهِ النخوة الحربية وَنزل هُوَ وفرسانه مُسْرِعين لنجدة اضعف الجيشين وهاجم الْجَيْش الثَّانِي بِقُوَّة وشجاعة عظيمتين حَتَّى وَقع الرعب فِي قُلُوب الَّذين كَادُوا يفوزون بالنصر لَوْلَا هَذَا المدد الفجائي واعمل فيهم السَّيْف وَالرمْح ضربا ووخزا حَتَّى هَزَمَهُمْ شَرّ هزيمَة وَكَانَ ذَلِك فِي اواخر الْقرن السَّابِع لِلْهِجْرَةِ". 
فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144010200449
تاریخ اجراء :28-06-2019

فتوی پرنٹ