1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. باہمی حقوق
  4. اولاد کے حقوق

محمد حدید نام رکھنے کا حکم

سوال

 بچے کا نام "محمد حدید" ہے، اس کے معنی کیا ہیں؟ کیا یہ نام رکھنا اسلامی لحاظ سے ٹھیک ہے یا اس کو تبدیل کیا جائے؟  کیوں کہ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ نام رکھنا درست نہیں۔ برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں!

جواب

’’حدید‘‘  کے معنی لوہا، لوہے کی سلاخ، تیز، اور غصہ وغیرہ کے ہیں، نیز  یہ پڑوسی کے معنی میں بھی آتا ہے، اس پہلو سے یہ نام درست ہے کہ یہ کفار اور دین اسلام کے دشمنوں کے لیے لوہے اور تلوار کی دھار  کی طرح تیز ہوگا، اور اسی طرح دیگر بعض معانی کے اعتبار سے بھی یہ نام درست ہے، البتہ اس سے بہتر یہ ہے کہ بچہ کا نام انبیاء کرامؑ ، صحابہ کرام ؓ اور اولیاء کرام ؒ  کے ناموں پر یا اچھے بامعنی نام رکھے جائیں۔

المعجم الوسيط (1/ 161):
"(الحدة) القوة يقال أخذته حدة الغضب وهو معروف بحدة التفكير أي عمقه.
(الحديد) عنصر فلزي يجذبه المغناطيس يصدأ ومن صوره الحديد الزهر والمطاوع والصلب (ج) حدائد ويقال فلان حديد فلان إذا كانت داره إلى جانب داره أو أرضه إلى جنب أرضه وداري حديدة دارك محادتها".

القاموس المحيط (ص: 276):
"والحديد: م، ج: حدائد وحديدات.
والحداد: معالجه والسجان، والبواب، والبحر، ونهر.
والاستحداد: الاحتلاق بالحديد.
وحد السكين، وأحدها وحددها: مسحها بحجر أو مبرد، فحدت تحد حدة، واحتدت، فهي حديد، وحداد، كغراب ورمان، ج: حديدات وحدائد وحداد. وناب حديد وحديدة.
ورجل حديد وحداد من أحداء وأحدة وحداد: يكون في اللسن، والفهم، والغضب.
وحد عليه يحد حددا، وحدد، واحتد، واستحد: غضب". 
فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144010200320
تاریخ اجراء :22-06-2019

فتوی پرنٹ