1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. بیع / تجارت
  4. بیع صحیح ، فاسد اور باطل

بوگو بک (Bogo) اور واؤچ 365 (Vouch365) کا استعمال اور اس کے ذریعہ خریداری کا حکم

سوال

Bogo app and book اس ایپ میں مختلف طرح کی کمپنیوں (جن میں ہوٹل،کپرے زیورات کی کمپنیاں وغیرہ شامل ہیں) کی طرف سے ڈسکاؤنٹ فراہم کیا جاتا ہے اور یہ ایپ یا کتاب پیسوں کے عوض فروخت کی جاتی ہے، لیکن مجھے اس ایپ کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم نہیں ہیں،  گزارش ہے کہ اس کے بارے میں تفصیلات معلوم کرنے کے بعد بتائیے کہ اس ایپ کے ذریعے خریداری جائز ہے یا نا جائز ہے؟

جواب

’’بوگو‘‘  ایک ادارہ ہے جو ایک واؤچر بک جاری کرتا ہے  جس میں مختلف ہوٹلز اور کمپنیوں کی مخصوص اشیاء یا مخصوص خدمات کے کوپن ہوتے ہیں، اور اس کی ایک مدت ہوتی ہے،  واؤچر خریدنے والا ایک سال کے دوران جب  اس کمپنی یا ہوٹل کے پاس جائے گا اور کوپن میں موجود چیز خریدے گا تو اس کو کمپنی یا ہوٹل کی طرف سے خریدی ہوئی چیز سے اضافی کوئی چیز  (مثلاً ایک پیزا خریدنے پر ایک اور پیز مفت ملنا) یا کوئی مفت سہولت یا ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے۔ بوگو بک(Bogo) کی طرح ایک واؤچ 365 (Vouch365) کے نام سے بھی کتابچہ ملتا ہے، اس کا بھی طریقہ تقریباً اس کے جیسا ہی ہوتا ہے۔

اس کا شرعی حکم مندرجہ ذیل ہے:

 خرید و فروخت کے لیے کیے جانے والے سودے میں دونوں طرف "مال"  ہونا ضروری ہے اور ’’مال‘‘ کہتے ہیں  وہ چیز  جس کی طرف طبیعت مائل ہو اور اس  کی ذخیرہ اندوزی ممکن ہو،  تاکہ  ضرورت کے وقت کام آسکے۔

البحر الرائق   میں ہے :

"(هو مبادلة المال بالمال بالتراضي) من استبدلت الثوب بغيره أو بدلت الثوب بغيره أبدله من باب قتل، كذا في المصباح. وفي المعراج ما يدل على أنها بمعنى التمليك؛ لأن بعضهم زاد على جهة التمليك، فقال فيه: لا حاجة إليه؛ لأن المبادلة تدل عليه، والمال في اللغة: ما ملكته من شيء، والجمع أموال، كذا في القاموس. وفي الكشف الكبير: المال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة".  (5 / 277،  دار الکتاب الاسلامی)

اور اگر سودے میں ایک طرف مال ہو اور دوسری طرف صرف حق ہو، مال نہ ہو تو ایسا سودا شرعاً ناجائز ہوتا ہے۔   اور حق عام طور پر کہتے ہیں اس  چیز کو جو مبیع کے تابع ہو،  اور اس کے لیے مبیع کا ہونا ضروری ہو  اور اس کا اسی وجہ سے قصد کیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"اعلم أن الحق في العادة يذكر فيما هو تبع للمبيع، ولا بد له منه ولايقصد إلا لأجله كالطريق والشرب للأرض". (5 / 187، سعید)

  بوگو بک  یا واوچ ۳۶۵ یا کسی بھی کمپنی سے ایسے کتابچہ خریدنا جس سے مختلف ریسٹورنٹ اور دکانوں میں  اشیاء خریدنے پر رعایت  ملتی ہو در اصل مذکورہ رعایت کا حق خریدنا ہے،  کیوں کہ اس کتابچہ کی وجہ سے ملنے والی رعایت  دیگر اداروں سے خریدی گئی اشیاء کے تابع ہے، اور اس رعایت کو حاصل کرنے کے لیے دیگر اداروں سے اشیاء کی خریداری ضروری ہے اور اس کتابچہ کا اسی رعایت کی وجہ سے قصد کیا جاتا ہے۔شرعی اصطلاح میں یہ ایک حقِ مجرد ہے اور شرعاًحقوقِ مجردہ کی خریدوفروخت جائز نہیں ہے؛ لہذا مذکورہ واوچر/ کتابچہ جس کی بنا پر دیگر اداروں میں ڈسکاونٹ ملتا ہے، خریدنا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لايجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة ،كحق الشفعة". (4 / 518، سعید)

نیز اس کوپن کی قیمت کو  کوپن کے ذریعے خریداری پر ملنے والی اضافی چیز کا ثمن بھی قرار نہیں دیا جاسکتا ہے، اس لیے کہ اس میں غرر (دھوکا) پایا جاتا ہے، اس لیے کہ اگر ایک سال کے دوران گاہک نے اس کمپنی سے خریداری نہیں کی تو  کوپن لینے والے کو وہ اضافی چیز بھی نہیں ملے گی اور اس کی ادا کی ہوئی رقم ضائع ہوجائے گی، اور اس صورت میں ایک عقد کو مستقبل میں ہونے والے دوسرے عقد کے ساتھ مشروط بھی کرنا پایا جارہا ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔

اسی طرح مذکورہ کتاب کو مبیع قرار دینا بھی درست نہیں ہے، اس لیے کہ یہ کتاب نہ بذاتِ خود بیع سے مقصود ہوتی ہے اور  نہ اس کی اتنی مالیت ہوتی ہے؛ لہذا اس واؤچر کو خریدنا اور استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144007200404
تاریخ اجراء :28-03-2019

فتوی پرنٹ