1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. بیع / تجارت
  4. بیع صحیح ، فاسد اور باطل

بائع کی رضامندی کے بغیراس کی دکان کو مسجد میں شامل کرنا

سوال

ایک مسجد والے مسجد سے ملحق  دکان کو زبردستی شامل کرنا چاہ رہے ہیں، اگرچہ وہ ایک خطیر رقم کی پیشکش بھی کر رہے ہیں، لیکن دکان دار راضی نہیں ہے، کیا زبردستی کرنا صحیح ہے؟

جواب

بیع (خرید وفروخت) نام ہی باہمی رضامندی سے تبادلہ کا ہے، اگر خریدار یا  فروخت کرنے والے میں سے کوئی راضی نہ ہو تو زبردستی دوسرے فریق کا وہ چیز لینا جائز نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں  اگر دکان دار اپنی دکان کو فروخت کرنے پر راضی نہیں ہے، تو مسجد انتظامیہ کا اس سے زبردستی دکان لینا جائز نہیں ہے، اگر مسجد کو ضرورت ہے تو انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ دکان کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔

ہاں! البتہ  اگر یہ صورت ہو کہ وہ مسجد پنج وقتہ نمازوں کے لیے ہو، اور وہ عام نمازوں میں نمازیوں کے لیے تنگ پڑتی ہو، اس کے لیے توسیع کی ضرورت ہو، اور اس شہر / قصبے میں کوئی دوسری مسجد نہ ہو، تو ایسی صورت میں قاضی (عدالت) کی اجازت سے اس دکان کے مالک کو مارکیٹ ریٹ کے اعتبار سے قیمت دے کر زبردستی بھی مسجد میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

مشكاة المصابيح (2/ 889):
’’وَعَن أبي حرَّة الرقاشِي عَن عَمه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَايَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان وَالدَّارَقُطْنِيّ فِي الْمُجْتَبى‘‘.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 379):
’’(تؤخذ أرض) ودار وحانوت (بجنب مسجد ضاق على الناس بالقيمة كرهاً) درر وعمادية.
(قوله: وتؤخذ أرض) في الفتح: ولو ضاق المسجد وبجنبه أرض وقف عليه أو حانوت جاز أن يؤخذ ويدخل فيه اهـ زاد في البحر عن الخانية بأمر القاضي وتقييده بقوله: وقف عليه أي على المسجد يفيد أنها لو كانت وقفاً على غيره لم يجز، لكن جواز أخذ المملوكة كرهاً يفيد الجواز بالأولى؛ لأن المسجد لله تعالى، والوقف كذلك، ولذا ترك المصنف في شرحه: هذا القيد، وكذا في جامع الفصولين، تأمل (قوله: بالقيمة كرهاً)؛ لما روي عن الصحابة - رضي الله عنهم - لما ضاق المسجد الحرام أخذوا أرضين بكره من أصحابها بالقيمة وزادوا في المسجد الحرام، بحر عن الزيلعي. قال في نور العين: ولعل الأخذ كرهاً ليس في كل مسجد ضاق، بل الظاهر أن يختص بما لم يكن في البلد مسجد آخر إذ لو كان فيه مسجد آخر يمكن دفع الضرورة بالذهاب إليه نعم فيه حرج لكن الأخذ كرها أشد حرجا منه ويؤيد ما ذكرنا فعل الصحابة إذ لا مسجد في مكة سوى الحرام اهـ‘‘.
 فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144001200872
تاریخ اجراء :05-11-2018

فتوی پرنٹ