1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. حقوق / استحقاق
  4. مشترکہ حقوق اور اس کے احکام

غاصب کی سزا

سوال

 غاصب کی سزا کیا ہے؟

جواب

 حدیث شریف میں غاصب کی اخروی سزا یہ بیان کی گئی ہے۔

''عن سعيد بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " من أخذ شبراً من الأرض ظلماً ؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين "
ترجمہ: حضرت سعید بن زید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی کی بالشت بھر زمین بھی ازراہِ ظلم لے گا قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی زمین اس کے گلے میں بطورِ طوق ڈالی جائے گی۔ ( بخاری ومسلم)

اور  غاصب کے لیے دنیاوی حکم یہ ہے کہ اگر مغصوب چیز  اس کے پاس موجود ہو تو  وہ مالک کو واپس  کردے اور اگر وہ موجود نہ ہو  تو اس کی قیمت  یا اس جیسی چیز اس کو ادا کرے ۔ اور جب یہ معاملہ قاضی کے سامنے پیش ہو اور وہ مناسب سمجھے تو اس فعل پر جو مناسب سمجھے تعزیر بھی کرسکتاہے۔مزید یہ کہ اس نے اصل مالک کو جو تکلیف پہنچائی اس پر اس سے معافی مانگے۔

 '' لأن الغصب لیس من أسباب الملک، هذا عند الجمهور، وأما عند أبي حنیفة رحمه الله ؛ فلعدم زوال الید المحقة في العقار، فتکون للمالک السابق بلاریب''۔

(ردالمحتار ۵:۱۶۲)

قال العلّامة المرغینانی رحمه اللّٰه : ''وعلی الغاصب ردّالعین المغصوبة معناه مادام قائمًا لقوله علیه السلام:’’علی الید ما أخذت حتّی تردّ.‘‘وقال علیه السلام: ’’لایحلّ لأحد أن یأخذ متاع أخیه لاعبًا ولاجادًّا فإن أخذه فلیردّه علیه‘‘۔'' (الهدایة، ۳:۳۷۳، کتاب الغصب)
''والتعزیر تادیب دون الحد، أکثره تسعة وثلاثون سوطاً، وأقله ثلاثة لو بالضرب، وجعله فی الدر علی أربع مراتب''. (شامی 3/ 274)
فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :143909201685
تاریخ اجراء :04-08-2018

PDF ڈاؤن لوڈ