1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. سود / بینکاری / انشورنس / شیئرز
  4. قرض کے احکام

مارکیٹ بنانے کے لیے لوگوں سے اس شرط پر قرضہ لینا کہ مارکیٹ بننے کے بعد آپ کو دکان کرایہ پر دی جائے گی

سوال

میں اپنی زمین میں مارکیٹ بنانا چاہتا ہوں، مگر میرے پاس سرمایہ نہیں ہے تو میں لوگوں سے کہہ دیتا ہوں کہ تم مجھے سرمایہ دو اس کے بدلے میں، مارکیٹ بننے کے بعد ،تمہیں مارکیٹ میں کرایہ پر دوکان دوں گا اور ماہانہ کرایہ میں نصف یا ثلث نقد اور باقی اس سرمایہ کے روپے میں سے کٹتا جاۓ گا ، کئی سال میں آپ کا سرمایہ کرایہ میں ختم ہوجاۓ گا تو کیا اس طرح لوگوں سے ایڈوانس روپے لینا اور مارکیٹ بنانا جائز ہے؟ اگر ناجائز ہو تو جائز صورت بتادیں ؟

جواب

مارکیٹ بنانے کے لیے لوگوں سے قرضہ لینا اور مارکیٹ بننے کے بعد لوگوں کو اس مارکیٹ میں دکان کرایہ پر دے کر ماہانہ مکمل کرایہ یا اس کا کوئی خاص حصہ (مثلاً نصف یا ثلث )  قرض میں سے محسوب کرنا، جائز ہے بشرطیکہ دکان کا کرایہ قرض خواہوں کے لیے اجرتِ مثل (جتنا کرایہ عرف میں اس طرح کی مارکیٹ میں عام کرایہ داروں سے لیا جاتاہو)سے کم مقرر نہ کیا جائے، اگر قرض خواہوں کو دکان کرایہ پر دے کر ان دکانوں کا کرایہ اجرتِ مثل سے کم رکھا جائے گا تو یہ قرض کی بنیاد پر دیے جانے والے نفع کے زمرے میں آئے گا جو کہ سود ہے۔

PDF ڈاؤن لوڈ