1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. حج / عمرہ
  4. متفرقات حج و عمرہ

کیا بیان حلفی میں غلط بیانی و جھوٹ کا سہارا لے کر حج پر جانا جائز ہے؟

سوال

 میں سعودی عرب میں ایک کمپنی میں بحیثیت ایک جیالوجسٹ کام کرتا ہوں. ہماری کمپنی نے اس سال قرعہ اندازی کے ذریعہ کمپنی ملازمین کو حج پر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے. ایک فارم بھرنے کو دیا گیا جس میں یہ لکھا ہے کہ"میں اللہ کی قسم کہا کر کہتا ہوں کہ میں نے کبھی حج نہیں کیا" مگر کچھ لوگ باوجود اس کے کہ وہ کسی بھی ذریعے سے حج کر چکے ہوں وہ بھی اس کو بھر کر جمع کروا رہے ہیں تو اس غلط بیانی کے بعد ان کے حج کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

مذکورہ کمپنی کی جانب سے تیار کردہ حج پالیسی سے فائدہ اٹھانے کے لیے  بیانِ حلفی میں غلط بیانی کرنا گناہِ کبیرہ ہے، بلکہ نبی کریم ﷺ کی حدیثِ مبارک کی روشنی میں کبیرہ گناہوں میں بھی ابتدائی بڑے گناہوں میں سے ہے۔ لہٰذا جھوٹ و دروغ گوئی کرکے اور اللہ پاک کے عظیم نام کی جھوٹی قسم اٹھا کرکمپنی کی طرف سے حج پر جانا جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008201711
تاریخ اجراء :29-05-2019

فتوی پرنٹ