1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. حج / عمرہ
  4. متفرقات حج و عمرہ

والد کی طرف سے جو سونا ملے گا اس سے عمرہ کرنے کی منت ماننا

سوال

اگر کوئی یہ منت مانے کہ والد کی طرف سے شادی میں جو گولڈ ملے گا اس سے میں عمرہ کروں گی، تو کیا یہ منت صحیح ہے؟ اس کا پورا کرنا ضروری ہے؟

جواب

اگر والد کی طرف سے شادی میں سونا ملے تو نذر کا پوراکرنا واجب ہوگا، اور اس سونے سے عمرہ کرنا واجب ہوگا۔

" (كِتَابُ النَّذْرِ) الْكَلَامُ فِي هَذَا الْكِتَابِ فِي الْأَصْلِ فِي ثَلَاثَةِ مَوَاضِعَ: فِي بَيَانِ رُكْنِ النَّذْرِ، وَفِي بَيَانِ شَرَائِطِ الرُّكْنِ، وَفِي بَيَانِ حُكْمِ النَّذْرِ أَمَّا الْأَوَّلُ: فَرُكْنُ النَّذْرِ هُوَ الصِّيغَةُ الدَّالَّةُ عَلَيْهِ وَهُوَ قَوْلُهُ: " لِلَّهِ عَزَّ شَأْنُهُ عَلَيَّ كَذَا، أَوْ عَلَيَّ كَذَا، أَوْ هَذَا هَدْيٌ، أَوْ صَدَقَةٌ، أَوْ مَالِي صَدَقَةٌ، أَوْ مَا أَمْلِكُ صَدَقَةٌ، وَنَحْوُ ذَلِكَ. ....وَيَصِحُّ النَّذْرُ بِالصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَالْإِحْرَامِ بِهِمَا وَالْعِتْقِ وَالْبَدَنَةِ وَالْهَدْيِ وَالِاعْتِكَافِ وَنَحْوُ ذَلِكَ؛ لِأَنَّهَا قُرَبٌ مَقْصُودَةٌوَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ تَعَالَى فَلْيُطِعْهُ» ، وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «مَنْ نَذَرَ وَسَمَّى فَعَلَيْهِ وَفَاؤُهُ بِمَا سَمَّى» ؛ إلَّا أَنَّهُ خُصَّ مِنْهُ الْمُسَمَّى الَّذِي لَيْسَ بِقُرْبَةٍ أَصْلًا، وَاَلَّذِي لَيْسَ بِقُرْبَةٍ مَقْصُودَةٍ فَيَجِبُ الْعَمَلُ بِعُمُومِهِ....الخ (بدائع الصنائع، ٥/ ٨١ ، ٨٢، ٨٣) فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144007200121
تاریخ اجراء :16-03-2019

فتوی پرنٹ