1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. حج / عمرہ
  4. متفرقات حج و عمرہ

فرض حج پہلے کرے یا غریب پڑوسی پر صدقہ کرے ؟

سوال

فرض حج ادا کرے  یا اپنے غریب پڑوسی پر صدقہ کردے؟

جواب

حج فرض ہونے کے بعد پہلے اس کی ادائیگی ضروری ہے، بقیہ کاموں کا درجہ اس کے بعد کا ہے، لہذا استطاعت ہو تو حج بھی کرے اور غریب پڑوسی کی ضرورت بھی پوری کرے، ورنہ پہلے حج فرض کی ادائیگی کا اہتمام کرے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 457):
"وفي الفتح: ويأثم بالتأخير عن أول سني الإمكان فلو حج بعده ارتفع الإثم اهـ وفي القهستاني: فيأثم عند الشيخين بالتأخير إلى غيره بلا عذر إلا إذا أدى ولو في آخر عمره فإنه رافع للإثم بلا خلاف". 
 فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008200101
تاریخ اجراء :11-04-2019

فتوی پرنٹ