1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. عبادات
  3. حج / عمرہ
  4. متفرقات حج و عمرہ

عمرہ زائرین پر دو ہزار ریال جرمانہ اور اس سے بچنے کا حیلہ کرنا

سوال

سعودی گور نمنٹ نے جو 2000 ریال ٹیکس لگایا ہے، اس کو ساقط کرنے کا حیلہ کر سکتے ہیں مثلاً: پاسپورٹ نیا بنانا؟

جواب

دارالافتاء بنوری ٹاؤن سے حال ہی  میں اس موضوع پر ایک تفصیلی فتوی جاری ہوا ہے۔آپ اور عام قارئین کے فائدے کے لیے اسے درج کیا جاتا ہے۔آپ اپنے سوال کا جواب فتوی کے آخر میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔فتوی درج ذیل ہے:

حرمین شریفین تمام دنیا کے مسلمانوں کی عبادت کے لیے مشترکہ مقامات ہیں، حرم کے مستقل باسیوں کا حر م میں جتنا حق ہے، اتنا ہی حق دنیا کے کسی اور جانب  سے آنے والے کا بھی ہے، چنانچہ قرآن کریم کی آیت:’’سَوَآءَ نِ الْعَاكِفُ فِيْهِ وَالْبَادِ‘‘ [الحج: 25] کے ذیل میں اس کی تفصیلات دیکھی جاسکتی ہیں۔ اپنے اس حق کی وجہ سے اگر کوئی مسلمان جائز طور پر اس حق سے مستفید ہونا چاہے تو دنیا کے کسی حاکم یا قانون کو اسے روکنے کا حق نہیں ہے، ایسا اس وجہ سے ہےکہ کسی مسلمان کے لیے حرم شریف جانا ایسا ہی ہے جیسے وہ اپنے گھر یا محلے کی مسجدمیں جائے، جس طرح یہاں کسی کو رکاوٹ ڈالنے کا حق نہیں،اسی طرح حرم جانے والے کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا بھی شرعاً جائز نہیں۔ لہٰذا دوبارہ عمرہ کرنے والوں پر دو ہزار ریال بطور ٹیکس عائد کرنے کا تعلق ہے تو شرعاً اس کی اجازت نہیں ہے۔بذل المجہود میں ہے :

’’إنما العشور علی الیهود والنصاری ولیس علی المؤمنین عشور. قال القاری: قال ابن الملک: أراد به عشر مال التجارة لا عشر الصدقات في غلات أراضیهم. قال الخطابي: ولایؤخذ من المسلم شيء من ذلک دون عشر الصدقات.‘‘(۴/۱۵۷)

الترغيب والترهيب للمنذريمیں ہے:

’’عَن عقبَة بن عَامر رَضِي الله عَنهُ أَنه سمع رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: لَايدْخل صَاحب مكس الْجنَّة. قَالَ يزِيد بن هَارُون: يَعْنِي العشار. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن خُزَيْمَة فِي صَحِيحه وَالْحَاكِم كلهم من رِوَايَة مُحَمَّد بن إِسْحَاق، وَقَالَ الْحَاكِم: صَحِيح على شَرط مُسلم، كَذَا قَالَ، وَمُسلم إِنَّمَا خرج لمُحَمد بن إِسْحَاق فِي المتابعات، قَالَ الْبَغَوِيّ: يُرِيدبِصَاحِب المكس الَّذِي يَأْخُذ من التُّجَّار إِذا مروا عَلَيْهِ مكساً باسم الْعشْر، قَالَ الْحَافِظ: أما الْآن فَإِنَّهُم يَأْخُذُونَ مكساً باسم الْعشْر ومكوساً أخر لَيْسَ لَهَا اسْم بل شَيْء يأخذونه حَرَامًا وسحتاً ويأكلونه فِي بطونهم نَاراً، حجتهم فِيهِ داحضة عِنْد رَبهم وَعَلَيْهِم غضب وَلَهُم عَذَاب شَدِيد‘‘. (1 / 319، دار الکتب العلمیة)

نیل الأوطار میں ہے:

"قوله: (وليس على مسلم جزية) لأنها إنما ضربت على أهل الذمة ليكون بها حقن الدماء وحفظ الأموال، والمسلم بإسلامه قد صار محترم الدم والمال قوله: (عشور) هي جمع عشر وهو واحد من عشرة: أي ليس عليهم غير الزكاة من الضرائب والمکس و نحوهما". (8 / 70، دار الحديث، مصر)

اسلامی قوانین  میں ایسے ابواب کو یہاں تک ناجائز رکھا گیا ہے کہ یہود ونصاری جو بیت المقدس کی زیارت کو جاتے ہیں، اس کی وجہ سے ان سے اس طرح کی  رقم لینا حرام قراردیاگیا ہے۔ چنانچہ فتاوی شامی میں ہے:

"قال الخير الرملي: أقول: منه يعلم حرمة ما يفعله العمال اليوم من الأخذ على رأس الحربي والذمي خارجاً عن الجزية حتى يمكن من زيارة بيت المقدس". (حاشية ابن عابدين:كتاب الزكاة، 2/313، ط: سعيد)

جب سفر بیت المقدس کے سبب سے غیر مسلم سے ٹیکس لینے کی اجازت نہیں تو سفر عمرہ کے سبب سے مسلمان سے کچھ لینے کی اجازت کیسے ہوگی؟

قواعدِ اسلامیہ کا مقتضا تو یہ ہے کہ اگر ایسا ناجائز ٹیکس غیر مسلم حکام مسلمانوں سے وصول کرتے ہوں، تب بھی اپنی حدود میں مسلمان حکم رانوں کو غیرمسلموں سے ایسے ٹیکس وصول کرنا جائز نہیں، اس کی نظیر عشر ہے کہ اگر مالِ تجارت غیر مسلم تاجر کے پاس نصاب سے کم ہو، اور وہ لوگ اپنے مقامِ حکومت میں مسلمان تاجر سے اس مقدار میں عشر لیتے ہوں، تو ہم غیر مسلم تاجر سے نہ لیں گے، اور اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ یہ ظلم ہے، اور ظلم میں موافقت نہیں کی جاتی ہے۔

اس سے ثابت ہوا کہ اس رقم کا وصول کرنا قواعدِ اسلامی کی رو سے ناجائز ہے، اگر غیر مسلم سلطنت ایسی رقم مسلمانوں سے وصول کرتی ہو تو اسلامی  ریاست تب بھی غیر مسلم سے وصول نہ کرے گی۔

در مختار میں ہے:

"(ولانأخذ منهم شيئاً إذا لم يبلغ مالهم نصاباً) وإن أخذوا منا في الأصح؛ لأنه ظلم ولا متابعة عليه". (حاشية ابن عابدين:كتاب الزكاة، 2/315، ط: سعيد)

دلا ئلِ مذکورہ صاف صاف دلالت کر رہے ہیں کہ ایسا ٹیکس معتمرین سے وصول کرنا اسلام کی رو سے جائز نہیں۔

باقی اگر زائرینِ حرمین پر ٹیکس یا اس جیسی مالی پابندی اس وجہ سے عائدکی جائے کہ بار بار جانے سے ازدحام ہوتا ہے، اور یہ رقم عائد کرنے سے بار بار آنے والوں کی روک تھام ہو سکے گی، تو اس کا جواب یہ ہے کہ حکومتِ وقت کو مباحاتِ اصلیہ سے کسی کو روکنے کا اختیار ہوتا ہے، بشرطیکہ اس میں مفادِ عامہ کی مصلحت ہو، لیکن جو مباحاتِ شرعیہ ہیں، اس میں حکومت کو کسی کو منع کرنے  کا اختیار نہیں،چنانچہ حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکیؒ ماہنامہ بینات میں امام ابو حامد الغزالیؒ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

" إن الأفعال ثلاثة أقسام، قسم بقي على الأصل فلم يرد فيه من الشرع تعرض لا بصريح اللفظ ولا بدليل من أدلة السمع فينبغي أن يقال: استمر فيه ما كان ولم يتعرض له السمع فليس فيه حكم.

وقسم صرح الشرع فيه بالتخيير وقال: إن شئتم فافعلوه وإن شئتم فاتركوه، فهذا خطاب والحكم لا معنى له إلا الخطاب ولا سبيل إلى إنكاره وقد ورد.

وقسم ثالث: لم يرد فيه خطاب بالتخيير لكن دل دليل السمع على أنه نفى الحرج عن فعله وتركه.  (المستصفی في علم الأصل، ۱/۶۰، دارالکتب العلمیة)

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ افعالِ مباحہ تین قسم کے  ہیں:

۱)  ایسے افعال جن کے متعلق شریعت نے کسی قسم کا حکم نہیں دیا، نہ ان کے کرنے کے بارے میں اور نہ نہ کرنے کے بارے میں، ایسے افعال کو اصولِ فقہ کے اصطلاح میں ’’مباح الأصل‘‘ کہا جاتا ہے، اور اس حالت کو اباحتِ اصلیہ کہتے ہیں، مثلاً:سڑک پر اس طرف چلو یا نہ چلو، تین روز گوشت کھاؤیا نہ کھاؤ، فلاں ملک کا کپڑا پہنو یا نہ پہنو۔

۲) وہ افعال جن کے بارے میں شریعت نے خود بتلا دیا کہ تم کو اختیار ہے کہ ان کو کرو یا نہ کرو، ایسے افعال کو مباحِ شرعی کہا جاتا ہےاور اس حالت کو ’’اباحتِ شرعیہ‘‘ کہتے ہیں، مثلاً: ایک سے زائد بیویاں رکھنے کا حکم کہ اس کے بارے میں شریعت نے کھول کر بتلا دیا ہےکہ تمہیں اختیار ہے کہ چاہے ایک سے زائد بیویاں رکھو یا نہ رکھو۔

۳) ایسے افعال جن کے کرنے یا نہ کرنے میں تو قرآن وحدیث میں صریح حکم موجود نہیں، لیکن ادلۂ شرعیہ میں کوئی دلیل اس بات کو بتلاتی ہے، کہ اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اب واضح رہے کہ حکومت کو صرف پہلی قسم کے افعال میں تصرف کرنے کا حق حاصل ہے، یعنی حکومت اس قسم کے قوانین بنا سکتی ہے، کہ دائیں طرف چلو، بائیں طرف نہ چلو، یا فلاں ملک کا کپڑا پہنو یا نہ پہنو، ہفتہ میں دو روز گوشت نہ کھاؤ، کیوں کہ ان امور کی اباحت شریعت سے نہیں معلوم ہوتی۔ البتہ دوسری قسم یا تیسری قسم کے افعال میں حکومت کو پابندی لگانے کا کسی قسم کا کوئی حق نہیں، کیوں کہ شریعت کے کسی امر میں تبدیلی کا حکومت کو سرے سے کوئی حق ہی نہیں، حکومت کو مباح کی دوسری اور تیسری قسم میں تبدیلی کا کوئی حق نہیں ہے۔ 

عمرہ ادا کرنا، بار بار عمرہ کرنا مباحِ اصلی نہیں، بلکہ مباحِ شرعی ہے، بلکہ اس کی تو  ترغیب ہے، جس کی وجہ سے جمہور فقہاءِ کرام نے اسے مستحب لکھا ہے، چنانچہ فتاوی شامی میں ہے: 

"فلا يكره الإكثار منها خلافاً لمالك، بل يستحب على ما عليه الجمهور". (حاشية ابن عابدين:كتاب الحج، 2/472، ط: سعيد)

حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلفِ صالحین سے بھی بکثرت عمرہ کی ادائیگی ثابت ہے، جس کی وجہ سے کثرتِ عمرہ مستحب بمعنی ما أحبه السلف بھی ہے، بار بار عمرہ کی ادائیگی کا فائدہ یہ بھی ہے کہ بیت اللہ ہر وقت زائرین سے آباد رہتا ہے ۔ چنانچہ ابوبکر جصاص رازیؒ احکام القرآن میں لکھتے ہیں:

"الثاني أنه أحب عمارة البيت وأن يكثر زواره في غيرها من الشهور". (سورة البقرة: 1/3۵۵، ط: دار إحياء التراث العربي)

مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی  کہ بار بار عمرہ کرنا مباحِ شرعی ہے؛ لہذاکسی حکومت کو اس سے روکنے اور پابندی لگانے کا حق نہیں ہےاور اس پر ٹیکس لگانا بھی  ناجائز اور حرام ہے اورایسا ٹیکس غیر شرعی، ناجائز اورظالمانہ ہے، اور اگر سعودی حکومت  جرمانہ کے نام سے مذکورہ رقم وصول کرتی ہے تو شریعت کی رو سے اس کی اجازت بھی نہیں ہے، حکومت کے ذمہ لازم ہے کہ ایسے ظالمانہ ٹیکسوں کو ختم کرے اور ہر مسلمان کو ان مقدس مقامات میں عبادت کرنے اور اپنے جائز حق سے مستفید ہونے کا موقع دے۔

مذکورہ تمہید سے یہ بات واضح ہوگئی کہ  مذکورہ ٹیکس  ظالمانہ ہے اور شریعت کی رو سے ناجائز  ہے، اس لیے اس سے اپنے آپ کو بچانا اور ادا نہ کرنا جائز ہے، اور اس کے لیے موقع محل کی مناسبت سے  کوئی جائز طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے، بشر ط یہ ہے کہ  اس میں صریح جھوٹ بولنے ، رشوت دینے اور ہتکِ عزت کا خطرہ نہ ہو۔ لیکن اگر ٹیکس سے بچنے کے لیے حیلہ کرنے میں گناہوں کا ارتکاب لازم آتا ہو تو اس کی اجازت نہیں ہوگی، خصوصاً جب کہ عمرہ  بھی نفلی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 427):
"الكذب مباح لإحياء حقه ودفع الظلم عن نفسه والمراد التعريض لأن عين الكذب حرام قال: وهو الحق قال تعالى :{قتل الخراصون} [الذاريات: 10]

(قوله: الكذب مباح لإحياء حقه) كالشفيع يعلم بالبيع بالليل، فإذا أصبح يشهد ويقول علمت الآن، وكذا الصغيرة تبلغ في الليل وتختار نفسها من الزوج وتقول: رأيت الدم الآن. واعلم أن الكذب قد يباح وقد يجب والضابط فيه كما في تبيين المحارم وغيره عن الإحياء أن كل مقصود محمود يمكن التوصل إليه بالصدق والكذب جميعاً، فالكذب فيه حرام، وإن أمكن التوصل إليه بالكذب وحده فمباح إن أبيح تحصيل ذلك المقصود، وواجب إن وجب تحصيله كما لو رأى معصوما اختفى من ظالم يريد قتله أو إيذاءه فالكذب هنا واجب، وكذا لو سأله عن وديعة يريد أخذها يجب إنكارها، ومهما كان لايتم مقصود حرب أو إصلاح ذات البين أو استمالة قلب المجني عليه إلا بالكذب فيباح، ولو سأله سلطان عن فاحشة وقعت منه سراً كزنا أو شرب فله أن يقول: ما فعلته؛ لأن إظهارها فاحشة أخرى، وله أيضاً أن ينكر سر أخيه، وينبغي أن يقابل مفسدة الكذب بالمفسدة المترتبة على الصدق، فإن كانت مفسدة الصدق أشد، فله الكذب، وإن العكس أو شك حرم، وإن تعلق بنفسه استحب أن لايكذب وإن تعلق بغيره لم تجز المسامحة لحق غيره والحزم تركه حيث أبيح، وليس من الكذب ما اعتيد من المبالغة كجئتك ألف مرة؛ لأن المراد تفهيم المبالغة لا المرات فإن لم يكن جاء إلا مرةً واحدةً فهو كاذب اهـ ملخصاً". فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144004201479
تاریخ اجراء :01-03-2019

فتوی پرنٹ