1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. طلاق - وقوع اور عدم وقوع

کلما کی طلاق کے عنوان سے کسی کو پابند کرنا

سوال

 میرا ایک دوست ہے، ایک آن لائن قرآن اکیڈمی میں پڑھاتا تھا، اس نے ’’کلما طلاق‘‘  کے فام پر دستخط کر کے  معاہدہ کیا تھا اور اس نے وہ معاہدہ توڑ دیا کیا، اس کا نکاح ہو سکتا ہے؟

 فارم کے الفاظ ملاحظہ  فرمائیں:

’’میں قسم کھاتا ہوں کہ میں اکیڈمی میں پڑھانے کے دوران یا اکیڈمی چھوڑنے کے بعد اکیڈمی کے کسی سٹوڈنس سے رابطہ نہیں رکھوں گا،  خواہ  وہ رابطہ کسی طرح سے بھی ہو، سکائپ سے ہو،  ای میل سے ہو، موبائل نمبر سے ہو  یا کسی اور طریقہ سے ہو،  نہ میں خود کروں گا اور نہ ہی میں کسی دوست عزیز کے ذریعے کروں گا،  اگر ایسا کیا تو مجھے ’’کلما طلاق‘‘ ہے اور ایسی صورت میں میں نکاحِ فضولی بھی نہیں کر سکتا‘‘۔

’’کلما طلاق‘‘  کا حل تو نکاحِ فضولی ہے، لیکن فارم میں نکاحِ فضولی بھی لکھا ہوا ہے، تو نکاحِ فضولی کا کوئی حل ہے ؟

جواب

اگر کوئی شخص یوں کہہ دے کہ ’’مجھ پر کلما کی طلاق ہے‘‘  تو اس سے کوئی طلاق نہیں ہوگی۔البتہ اگر کوئی "کلما" کے الفاظ اپنی  جانب سے یوں ادا کرے:  "کلما تزوجت فهي طالق"، یعنی یہ  کہے کہ "جب جب میں شادی کروں تو میری بیوی کو طلاق "، تو ہر بار طلاق واقع ہوتی ہے،  لہٰذا مذکورہ صورت میں اگر معاہدہ میں مذکورہ الفاظ یہی  تھے کہ ” اگر ایسا کیا تو مجھے کلما طلاق ہے“  تو ایسی صورت میں   نکاح کرنے کی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔

باقی وعدہ کرکے اسے توڑنا جائز نہیں ہے؛ لہٰذا ایسا وعدہ کرنا ہی نہیں چاہیے جو پورا نہ کیا جاسکتاہو ، نیز معاہدہ و حلف کے لیے ’’کلما کی طلاق‘‘ کا عنوان اختیار کرکے کسی سے حلف لینا یا معاہدہ کرنا پسندیدہ نہیں ہے، بوقتِ ضرورت اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم یا حلف کے ذریعے معاہدہ کو پختہ کیا جاسکتاہے۔ 

حاشية رد المختار على الدر المختار (3/ 247):
’’ قال في نور العين: الظاهر أنه لايصح اليمين؛ لما في البزازية من كتاب ألفاظ الكفر: إنه قد اشتهر في رساتيق شروان: أن من قال: جعلت كلما، أو علي كلما، أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل، ومن هذيانات العوام اهـ  فتأمل‘‘. 
 فقط واللہ اعلم 


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008200474
تاریخ اجراء :26-04-2019

فتوی پرنٹ