1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. طلاق - وقوع اور عدم وقوع

بیوی کو چل کہنے سے کیا طلاق ہوجائے گی؟ طلاق کی وسوسہ آنا

سوال

ایک دفعہ میں اپنی بیوی کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ اگر وہ مجھے چھوڑ کر چلی جائےاور میں طلاق کی نیت سے کچھ کنایہ الفاظ کہوں تو اسے طلاق ہو جائے گی، میں یہ سوچ رہا تھاکہ وہ مجھے چھوڑ کر جارہی ہے، میری اجازت کے بغیر تو میرے دل سے نکلا کہ ’’چل نکل‘‘ اور میری زبان سے یہ الفاظ نکل گئے:’’ نکل‘‘ جب کہ میں دل میں اس کو چل نکل کہہ رہا تھا۔  اب مجھے پوچھنا یہ ہے کہ میرے چل   کہنے  کی وجہ سے میری بیوی پر کوئی طلاق تو واقع نہیں ہوئی؟ جب کہ مجھے طلاق کے بہت وسوسے آتے ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔

اپنے ذہن کو خالی نہ رکھا کریں اپنے آپ کو کسی نہ کسی تعمیر ی کام میں مصروف رکھا کریں، اور طلاق کے سلسلہ میں بالکل نہ سوچا کریں، نیز با وضو رہنے کی کوشش کیا کریں اور جب بھی وسوسہ آئے تو  اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں طرف تھتکاردیا کریں، اور صبح و شام سورہ اخلاص سورہ فلق اور سورہ الناس پڑھنے کا اہتمام رکھیں۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144004201000
تاریخ اجراء :04-02-2019

فتوی پرنٹ