1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. طلاق - وقوع اور عدم وقوع

دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی طلاق کا جھوٹا اقرار کرنا

سوال

ایک شادی شدہ شخص دوسری شادی کے لیے دوسری بیوی کے گھر والوں کے سامنے کہتا ہے کہ میں نے پہلی بیوی کوطلاق دے دی ہے، اور دوسرے لوگوں کے سامنے بھی یہی جملہ کہتا ہے،  لیکن پہلی بیوی کو حلفاً  کہتا کہ تمہیں طلاق نہیں دی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر  شوہر نے واقعۃً  اپنی پہلی بیوی کو طلاق نہیں دی تھی، اور  کسی مصلحت سے گھر والوں اور دیگر لوگوں کے سامنے  مذکورہ طلاق کا اقرار  (کہ ”میں نے پہلی بیوی کوطلاق دے دی ہے“) کرنے سے پہلے دو گواہ بنالیے تھے کہ میں خلافِ حقیقت طلاق کا اقرار کروں گا، اور اس سے حقیقت میں بھی شوہر کا طلاق دینا مقصود نہیں تھا تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی، اور اگر پہلے سے گواہ نہیں بنائے تھے، بلکہ گواہ بنائے بغیر  طلاق کا جھوٹا اقرار کرلیا تو  اس سے سے بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 238):
"(قوله: أو هازلاً) أي فيقع قضاءً وديانةً كما يذكره الشارح، وبه صرح في الخلاصة معللاً بأنه مكابر باللفظ فيستحق التغليظ، وكذا في البزازية. وأما ما في إكراه الخانية: لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لايقع، كما لو أقر بالطلاق هازلاً أو كاذباً فقال في البحر: وإن مراده لعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة، ثم نقل عن البزازية والقنية: لو أراد به الخبر عن الماضي كذباً لايقع ديانةً، وإن أشهد قبل ذلك لايقع قضاءً أيضاً. اهـ. ويمكن حمل ما في الخانية على ما إذا أشهد أنه يقر بالطلاق هازلاً، ثم لايخفى أن ما مر عن الخلاصة إنما هو فيما لو أنشأ الطلاق هازلاً. وما في الخانية فيما لو أقر به هازلاً فلا منافاة بينهما". 
فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144004201204
تاریخ اجراء :14-02-2019

فتوی پرنٹ