1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. طلاق - وقوع اور عدم وقوع

ایک طلاق دینے کے تین ماہ بعد تین طلاق دے دی

سوال

میری شادی کو آٹھ سال ہوچکے ہیں،  اور میرا بچہ ہے، مگر ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی کو اس سال فروری کے وسط میں ایک طلاق دی تھی، پھر تین ماہ بعد میں نے اسے ایک ساتھ تین طلاق دے دیں، اور اگلے دن میں نے بذریعہ میسج اس سے کہا کہ میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا تینوں طلاق واقع ہوگئی ہیں یا رجوع کا کوئی چانس باقی ہے؟  کسی نے مجھے کہا کہ پہلی طلاق کے بعد تین ماہ کے عرصہ گزرنے سے ہی طلاق کنفرم ہوگئی تھی، اور اس کے بعد جو طلاق دیں ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی، اور مجھے اب بھی گھر بسانے کا موقع حاصل ہے،  شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں فروری کے وسط میں دی گئی طلاق کے بعد  مذکورہ خاتون کی عدت ( تین ماہواریاں) مکمل ہونے سے پہلے اگر آپ نے اپنی بیوی سے عملی یا قولی طور پر رجوع کرلیا تھا تو آپ دونوں کا نکاح بدستور قائم رہا اور جب آپ نے یک بارگی مزید تین طلاق دیں تو اس کے نتیجہ میں  دو مزید طلاق واقع ہوکر آپ کی بیوی آپ پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، اب نہ رجوع جائز ہے اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح حلال ہے۔

البتہ  فروری میں دی گئی طلاق کے بعد اگر آپ نے عدت (تین ماہواریوں)  کے دوران رجوع نہیں کیا تھا، اور مزید طلاقیں دینے سے پہلے ہی مذکورہ خاتون کی عدت مکمل ہوچکی تھی، (یعنی مذکورہ خاتون حاملہ نہ ہوں اور تین ماہ میں تین ماہواریاں گزر چکی ہوں) تو عدت مکمل ہوتے ہی مذکورہ خاتون آپ کے نکاح سے آزاد ہوگئی تھی، اور اس کے بعد آپ نے جو طلاقیں دیں وہ شرعاً  واقع نہیں ہوئیں،  اور آپ دونوں کے لیے باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرنے کی اجازت ہوگی، اور آئندہ آپ کو  صرف دو طلاق کا حق حاصل ہوگا۔

تاہم اگر مذکورہ خاتون حاملہ ہوں اور فروری میں دی گئی طلاق اور پھر یک بارگی تین طلاق دینے تک بھی وہ حاملہ ہی ہوں تو اس صورت میں بھی تینوں طلاق واقع ہوجائیں گی۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144010200065
تاریخ اجراء :13-06-2019

فتوی پرنٹ