1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. طلاق - وقوع اور عدم وقوع

سسرال والوں نے داماد سے طلاق نامہ پر دستخط کرالیے

سوال

میرے چھوٹے بھائی کو اس کے سسرال والوں نے گھر پر بلایا اور اس کے سامنے پہلے سے تیار شدہ طلاق نامہ رکھ کر اس پر دستخط کرنے کو کہا اور کہا کہ اگر دستخط نہیں کیے تو گھر واپس نہیں جا سکتے، تو بھائی نے مجبوراً دستخط کردیے، مگر زبان سے طلاق کا لفظ ادا نہیں کیا ، اور وہاں ان کی زوجہ بھی نہیں تھیں، مذکورہ صورتِ حال میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں طلاق نامہ ہونے کے علم کے باوجود اس پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوچکی ہے،  اگر  طلاق نامہ میں تین طلاق درج تھیں تو تین واقع ہوگئی ہیں، اور بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ آپ کے بھائی پر حرام ہوچکی ہے، رجوع جائز نہیں ہے اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی حلال نہ ہوگا۔ اور اگر تین سے کم طلاقِ رجعی درج ہوں تو اتنی ہی طلاقِ رجعی واقع ہوں گی، اور عدت کے دوران رجوع جائز ہوگا، اور رجوع نہ کرنے کی صورت میں تکمیل عدت کے بعد تجدید نکاح کرنا ضروری ہوگا۔

البتہ اگر سسرال والوں نے آپ کے بھائی کو حبس کرلیا تھا ، یا دستخط نہ کرنے کی صورت میں قتل کرنے یا عضو تلف کرنے کی نہ صرف دھمکی دے رہے تھے، بلکہ وہ قتل کرنے یا عضو تلف کرنے پر قادر بھی تھے اور بھائی کو اس کا غالب گمان بھی تھا  تو ان شرائط کی موجودگی میں محض طلاق نامہ پر دستخط  کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

تاہم بہتر ہوگا کہ طلاق نامہ کے ساتھ دار الافتاء تشریف لا کر بالمشافہ ملاقات کرکے فتوی حاصل کرلیا جائے۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008200204
تاریخ اجراء :15-04-2019

فتوی پرنٹ