1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. طلاق - وقوع اور عدم وقوع

حاملہ بیوی کو یہ کہنے ’’ اگر تم نے مجھے  ہمارا بچہ ہونے تک فون کیا تو تم میرے پر طلاق‘‘ سے طلاق کا حکم

سوال

 میں سعودی عرب میں رہتاہوں،  مجھ سے غصے میں بیوی کو یہ نکل گیا کہ اگر تم نے مجھے  ہمارا بچہ ہونے تک فون کیا تو تم میرے پر طلاق، ابھی میری بیوی ساتویں مہینے کی حاملہ ہے. ابھی مجھے ڈر ہوتا ہے، اسے عادت ہے مجھے فون کرنے کی واٹس ایپ یا میسنجر پر. اگر اس سے غلطی سے کال مل گئی واٹس ایپ یا میسنجر پر ، مگر میں اس کو  نہ اٹھاؤں، اور وہ مس کال ہوجائے،  اس صورت میں طلاق واقع ہوسکتی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کی بیوی نے بچہ پیدا ہونے سے پہلے آپ کو فون کیا تو اس پر ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی، چاہے آپ نے فون اٹھایا یا نہیں اٹھایا ، اور عدت کے اندر رجوع کرنے کی صورت میں آپ کا نکاح باقی رہے گا، ورنہ عدت گزرنے کے بعد نکاح ختم ہوجائے گا اور بیوی بائنہ ہوجائے گی، پھر دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے جانبین کی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں نکاحِ جدید  کرنا پڑے گا، لیکن آپ کے پاس پھر مزید صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008200159
تاریخ اجراء :14-04-2019

فتوی پرنٹ