1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. طلاق - وقوع اور عدم وقوع

میسج کے ذریعہ طلاق کا حکم

سوال

میں ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں مگر وہ لڑکی کسی مشکل میں ہے ،  9 سال  سال پہلے اس لڑکی نے کسی سے نکاح کیا تھا  گھر والوں سے چھپ کر، لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی صرف ملنے جلنے کا سلسلہ تھا، وقت کے ساتھ ساتھ ان دونوں میں لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا تھا، ایک دن اس کے شوہر نے  لڑکی کا نام اور اس کے والد کے نام کے ساتھ 3 دفعہ طلاق کامیسج بھیجا  ، لڑکی کو کم علمی کی وجہ سے علم نہیں تھا کہ طلاق ہوگئی ہے،جب سمجھ آگیا کہ  طلاق ہوگئی ہے تو  2 سے 3 سال سے کوئی ملاقات نہیں کی اور آج جب میرا پیغام اسے ملا تو اس نےمجھے سب کچھ بتادیا اور کہا کہ میں کہا ں جاؤں؟ گھر میں بھی کسی کو کچھ نہیں بول سکتی ورنہ دشمنی تک بات جا سکتی ہے۔ اب میں نے کہا کہ آپ کی طلاق ہوگئی ہے ، اب مسئلہ یہ ہے کہ  اگر میں رشتہ کا پیغام بھیجو  ں اور  جواب ہا ں میں ہو تو نکاح ہوگا کہ نہیں؟ کیوں کہ اس لڑکی نے طلاق کے بعد عدت نہیں گزاری  نہ اس کو پتا تھا۔ ابھی 2 سال سے زیاد وقت گزرنے کے بعد کیا کرے ؟ عدت 3 حیض کرے؟ جب کہ گھر کا ماحول ایسا ہے   کہ کبھی کسی کے گھر جانا ہو تو یہ بولنا بھی مشکل بلکہ نا ممکن ہے کہ میں عدت میں ہوں۔ ابھی کیا کرنا ہوگا ؟

جواب

مذکورہ بالا صورت میں جب مذکورہ لڑکی کو اس کے شوہر نےواقعۃً میسج پر بیک لفظ تین طلاقیں دے دیں اور یہ تصدیق ہو چکی کہ میسج شوہر نے ہی بھیجا ہے تو  اس صورت میں زوجین کے درمیان عقدِ نکاح ختم ہو گیا اور چوں کہ عدت طلاق کے بعد فوراً شروع ہوجاتی ہے (خواہ معلوم ہو یا نہ ہو)؛ اس لیے عدت بھی گزر گئی اور  اب عدت کے عنوان سے دوبارہ تین ماہواری تک گھر میں رہنا ضروری نہیں ہے ؛ لہذا سائل کے لیے اس لڑکی سے نکاح کرنا شرعاً درست ہے۔فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :143909201446
تاریخ اجراء :19-07-2018

PDF ڈاؤن لوڈ