1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. نکاح / طلاق
  4. تین طلاقیں

ایک سانس میں تین طلاق دینے سے کتنی طلاق واقع ہوں گی؟

سوال

اگر کوئی شوہر ایک سانس میں تین طلاقیں دے دے تو کیا ایک طلاق واقع ہوتی ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دے کر راہ نمائی کریں!

جواب

واضح رہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور سے لے کر آج تک امت کا اجماع ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق ایک ہی جملہ سے دی جائیں یا الگ الگ جملہ سے دی جائیں یا مختلف اوقات میں دی جائیں بہر صورت تین طلاق ہی واقع ہوتی ہیں اسی پر تمام مسالک کے ائمہ (امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ ) کا فتوی بھی ہے اور یہی بات خلفاءِ راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے سمجھی تھی اور اسی کے مطابق عمل کرتے رہے، نیز امام بخاری و دیگر محدثین رحمہم اللہ کا مسلک بھی یہی تھا؛ لہذا ایک سانس میں دی گئی تین طلاقوں کو ایک سمجھنا غلط ہے۔ ایک جملہ سے تین طلاق کے وقوع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ بخاری شریف (٢/٧٩١) اور "عن ابن شهاب عن سهل بن سعد في هذا الخبر قال: فطلقا ثلاث تطليقات عند رسول الله صلي الله عليه وسلم، فأنفذه رسول الله صلي الله عليه وسلم".( ابو داؤد).

خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا فیصلہ میں مذکور ہے:

خلیفہ سوم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا فیصلہ میں مذکور ہے:

خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ میں مذکور ہے:

تفسیر "احکام القرآن" للقرطبی میں تین طلاق کے وقوع پر امت کا اجماع منقول ہے:

"مسلم شریف "کی شرح میں ہے:

احناف کی فتوی کی مشہور کتاب "فتاوی شامی" میں ہے:

فقہ مالکی کی مشہور کتاب میں ہے:

امام شافعی کی مشہور کتاب میں ہے:

فقہ حنبلی کی مشہور کتاب میں ہے:

فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008200359
تاریخ اجراء :21-04-2019

فتوی پرنٹ