1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. حقوق و معاشرت
  3. اخلاق / آداب
  4. حسن اخلاق

بیوی کی خدمت کرنا بالخصوص پاؤں دبانا

سوال

ہمارے دفتر میں دوستوں میں اس موضوع پر بات چلی کہ بیوی کے پاؤں دبانے چاہیے یا نہیں؟ میرا یہ نظریہ تھا کہ مرد چوں کہ خاندان کا سربراہ ہے اور ادب کے معاملے میں بیوی سے زیادہ تکریم کا حق رکھتا ہے، لہٰذا اس کا بیوی کے پاؤں دبانا مناسب نہیں، کچھ کی رائے تھی کہ بیوی کے پاؤں دبانے چاہیے؛ کیوں کہ یہ اچھے اخلاق کے زمرے میں آتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

شوہر کے لیے  بیوی کی خدمت اور بالخصوص پاؤں دبانے وغیرہ میں کچھ تفصیل ہے، اگر  نکاح میں مہر  کے طور پر یہ شرط ہو کہ شوہر بیوی کی خدمت کرے گا تو یہ جائز نہیں ہے، اس لیے  کہ یہ قلبِ موضوع ہے کہ اصل  شوہر کی خدمت تو بیوی کی ذمہ داری  ہے، اسی طرح اگر  بیوی تذلیل وتحقیر کے طور پر   شوہر سے  خدمت لے یا شوہر کی  بیوی کی خدمت کرنے میں اس کی تحقیر اور تذلیل ہو تو یہ بھی جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر بیوی کی بیماری کی وجہ سے یا کسی اور عذر کی بنا پر ، یا باہمی رضامندی اور حسنِ معاشرت کے طور پر شوہر اپنی خوشی سے بیوی کی  خدمت کرے اور اس کے پاؤں دبائے تو اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے، بلکہ یہ عمل پسندیدہ ہے، اور حسنِ معاشرت میں داخل ہے۔ 

(قوله: لأن فيه قلب الموضوع)؛ لأن موضوع الزوجية أن تكون هي خادمةً لا بالعكس، فإنه حرام؛ لما فيه من الإهانة والإذلال‘‘.

وفي رد المحتار:’’فليسكل خدمةلا تجوز، وإنما يمتنع لو كانت الخدمة للتذلیل ... قال في البحر: وحاصله أنه يحرم عليها الاستخدام، ويحرم عليه الخدمة‘‘.

و لما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 278):

’’لما في التسليم من استخدام الحرة زوجها، وأنه حرام‘‘.فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144001200773
تاریخ اجراء :29-10-2018

فتوی پرنٹ