1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. وراثت / وصیت
  4. ورثاء اور ان کے حصص

ماں، بیوہ، ایک بھائی اور تین بہنیں، زندگی میں اپنی مرضی کی تقسیم کی وصیت کا حکم

سوال

 بے اولاد شخص انتقال کر جائے، خاندان میں ماں، 1 بیوی 3 بہنیں ایک بھائی بمعہ 2 بچے ایک بیوہ بھابھی بمعہ 3 بچے، اس شخص کی جائیداد کی تقسیم کیسے ہو گی؟  کوئی بے اولاد اپنی زندگی میں وصیت برائے جائیداد کر سکتا ہے اپنی مرضی کی تقسیم سے؟

جواب

مذکورہ بے اولاد شخص کی وفات کی صورت میں اگر ذکرکردہ ہی رشتے دار حیات ہوں، تو اس کی جائیداد کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہوگا کہ سب سے پہلے مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحوم کے   حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے اور اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو  تو قرضہ کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں سے وصیت کو نافذ کرنے کے بعد باقی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو۶۰ حصوں میں تقسیم کر کے اس میں سے ۱۰ حصے مرحوم کی والدہ کو، ۱۵ حصے مرحوم کی بیوہ کو، ۱۴ حصے مرحوم کے زندہ بھائی کو اور ۷ حصے مرحوم کی ہر بہن کو ملیں گے۔یعنی فیصد کے اعتبار سے 100 فیصد میں سے 16.66 فیصد مرحوم کی والدہ کو، 25 فیصد مرحوم کی بیوہ کو، 23.33 فیصد مرحوم کے زندہ بھائی کو اور 11.66 فیصد مرحوم کی ہر بہن کو ملیں گے۔ مرحوم کی بھابی کا مرحوم کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

کوئی بھی شخص اپنے ورثاء کے درمیان اپنی مرضی سے اپنی جائیداد کی تقسیم کے بارے میں وصیت نہیں کرسکتا ہے؛ کیوں کہ ورثاء کے درمیان جائیداد کی تقسیم شریعتِ مطہرہ کے ضابطہ کے مطابق ہی کرنی ضروری ہے، اس لیے اگر کوئی شخص اپنے کسی وارث کے بارے میں وصیت کر بھی لے تب بھی وہ وصیت دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر معتبر نہیں ہوتی، البتہ جو رشتہ دار وارث نہ بن رہے ہوں (مثلاً: مذکورہ صورت میں اگر یتیم بھتیجوں، بھتیجیوں اور بیوہ بھابھی کے لیے وصیت کرنا چاہے) ان کے لیے  آدمی اپنے ترکہ کے ایک تہائی حصہ کے مقدار تک وصیت کرسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :144008200741
تاریخ اجراء :06-05-2019

PDF ڈاؤن لوڈ