1. دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
  2. معاملات
  3. وراثت / وصیت
  4. ورثاء اور ان کے حصص

گھر کی تقسیم 

سوال

میں جس گھر میں رہتا ہوں، اس میں ایک کمرا میرے استعمال میں ہے. ایک والدہ کے پاس اور ایک چھوٹے بھائی کے پاس. بیوی اور والدہ کے جھگڑوں کی وجہ سے میں نے 2007 میں چھت پر ایک کمرہ ڈال لیا.  2009 میں والدہ کے انتقال کے بعد چھوٹے بھائی نے پورے گھر پر قبضہ کر لیا اور مجھے بولا تم چھت پر ہی رہو. میں نے کہا ایک کمرہ تم لے لو اور میں دوسرا کمرہ. پورا گھر کھول دو ، مگر اس نے بولا تم نیچے نہیں آ سکتے. اب میں گھر کے کوئی بل ادا نہیں ادا کر رہا ؛ کیوں کہ چھت پر رہنا بہت مشکل ہے. اب آپ وضاحت فرما دیں کہ کیا کیا جائے کہ بھائی کہتا ہے کہ آپ نیچے نہیں آ سکتے اور پورے گھر پر قبضہ کر لیا ہے. دوسرا یہ کہ میں نے بل ادا نہیں کیے  کہ پہلے وہ پورا گھر کھولے. مگر بل ادا نہ کرنے کی وجہ سے اس نے والدہ کا سونے کا زیور باقی 5 بہن بھائیوں میں تقسیم کر دیا اور مجھے نہیں دیا. اس زیور کی 5 سال کی زکوۃ بھی ادا نہیں کی گئی۔

جواب

  سوال میں اس کی وضاحت نہیں کہ یہ گھر کس کی ملکیت میں تھا ،  اگر یہ گھر والد یا والدہ کی ملکیت تھا اور ان کی وفات کے بعد یہ تمام ورثاء کی ملکیت بن گیا ہے تو  پھر اس گھر میں تمام ورثاء کا ان کے حصوں کے بقدر حق ہے، آپ کے بھائی کا اس پر قبضہ کرنا درست نہیں ہے۔ 

آپ نے جو تعمیر اوپر کی ہے اگر  یہ  ورثاء کی اجازت سے اپنے لیے  کی تھی تو اس صورت میں  اس میں آپ کا حق ہے اور آپ اس گھر کی تقسیم کے وقت  جو خرچہ اس تعمیر پر ہوا ہے اس کو وصول کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

چوں کہ پورے گھر میں آپ شریک ہیں اوس میں کچھ نہ کچھ آپ کا حق ہے؛ لہذا بھائی کا آپ کو اس حصہ میں  آنے سے آپ کو روکنا  نیز والدہ کا سونے میں  سے بھی آپ کو حق نہ دیناظلم ہے۔ اور آپ کا اس نچلے حصہ کا بل ادا نہ کرنا درست ہے۔

لیکن مسئلہ کا حل یہ ہے  جب دو نوں بھائی ہیں اور آپس میں اتنی رنجش ہے کہ ساتھ  نہیںرہ سکتے تو  خاندان والوں کو درمیا ن میں ڈال کر اس  مسئلہ  کو حل کرنے کی کوشش کی جائے اور  باہمی رضامندی سے تمام ترکے کو تقسیم کردیا جائے؛  تاکہ آئندہ  کے لیے رنجشیں ختم ہو جائیں۔

( ولو عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليهالأن الملك لها ) وقد صح أمرها بذلك فينتقل الفعل إليها فتكون كأنها هي التي عمرته فيبقى على ملكها وهو غير متطوع بالإنفاق فيرجع لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين"۔ 

"ومن بنى أو غرس في أرض غيره بغير إذنه أمر بالقلع والرد ) لو قيمة الساحة أكثر كما مر ( وللمالك أن يضمن له قيمة بناء أو شجر أمر بقلعه ) أي مستحق القلع فتقوم بدونهما ومع أحدهما مستحق القلع فيضمن الفضل"۔ 

 

اور اگر گھر والد یا والدہ کی ملکیت نہیں تھا، تو وضاحت کرکے دوبارہ سوال کرلیجیے۔ فقط واللہ اعلم


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر :143909201907
تاریخ اجراء :16-08-2018

PDF ڈاؤن لوڈ